پی ایس ایل فائنل: کون لاہور آئے گا، فیصلہ 22 فروری کو

پی ایس ایل

،تصویر کا ذریعہPSL

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی

پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ لیگ کے فائنل کے لیے نیا ڈرافٹ 22 فروری کو ہو گا جس میں یہ فیصلہ ہو گا کہ غیرملکی کھلاڑیوں میں سے کون لاہور جانے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل پانچ مارچ کو لاہور میں کرانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

پیر کو لاہور میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شاید اس میچ کا انعقاد مشکل میں پڑ جائے۔

تاہم اس موقع پر نجم سیٹھی نے کہا تھا کہ غیرملکی کرکٹر لاہور جائیں یا نہیں، فائنل ہر صورت میں لاہور میں ہی ہو گا۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے حالیہ بیان میں یقین دہانی کرائی ہے کہ ’فوج فائنل کے لاہور میں انعقاد میں مکمل تعاون کرے گی۔

نجم سیٹھی نے جمعرات کو بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لیے نئی ڈرافٹنگ 22 فروری کو ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ وہ پانچوں فرنچائزز اور غیرملکی کھلاڑیوں کے سامنے فارمولا رکھیں گے کہ وہ ہمیں بتائیں کہ لاہور جانے کے لیے کون کون تیار ہے اور کون نہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور ہی میں ہو اور اس میں غیرملکی کھلاڑی حصہ لیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جو کھلاڑی لاہور جانے کے لیے تیار نہیں ان کی جگہ نئے غیرملکی کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے گا جن سے وہ رابطے میں ہیں۔

پی ایس ایل

،تصویر کا ذریعہPSL

نجم سیٹھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹرزکے خلاف کارروائی تمام تر ثبوت موجود ہونے کے بعد ہی کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ راتوں رات یہ سب کچھ کرلیا گیا۔ ان کرکٹرز کے مشکوک افراد سے رابطے کو کافی دنوں سے مانیٹر کیا جارہا تھا۔

ان کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن یونٹ کو یہ معلوم تھا کہ یہ لوگ کیا کررہے ہیں۔ اس معاملے میں ملوث کرکٹرز کی شناخت کر لی گئی تھی جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔

’پاکستان کرکٹ بورڈ بےوقوف نہیں کہ اتنا بڑا قدم بغیر ثبوت کے اٹھاتا۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس جو معلومات تھیں وہ آئی سی سی کے پاس موجود معلومات سے مطابقت رکھتی تھیں کہ ان کھلاڑیوں کا کیا منصوبہ ہے وہ کیا کرنے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کرکٹرز کے واٹس ایپ کے پیغامات اور ٹیپ کی گئی فون کالز کے ذریعے جو معلومات ملی ہیں وہ شواہد کے طور پر پیش جائیں گی۔

نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن یونٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی کرکے ایک خطرناک معاملے کا سدباب کیا گیا۔