سڈنی: پاکستان میچ اور سیریز ہار گیا

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ میں اتوار کو میزبان ٹیم نے پاکستان کو 86 رنز سے شکست دے کر یہ میچ اور سیریز دونوں ہی اپنے نام کر لی ہیں۔
آسٹریلیا نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر353 رنز بنائے تھے اور پاکستان کو جیت کے لیے ایک مشکل ہدف دیا تھا۔
اس ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم 267 رنز بنا کر 43.5 اوورز میں آوٹ ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے کامیاب ترین بلے باز شرجیل خان تھے جنھوں نے 36 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور 47 گیندوں پر 74 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ انھوں نے 10 چوکے اور تین چھکے لگائے۔
کپتان اظہر علی اور بابر اعظم نے بالترتیب سات اور 31 رنز بنائے۔ شعیب ملک اور عمر اکمل بھی پویلین لوٹ گئے۔
سڈنی میں جاری میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ اوپنر ڈیوڈ وارنر کی سنچری اور ہیڈ اور میکسول کی نصف سنچریوں کی بدولت ایک بڑا سکور بنانے میں کامیابی رہی۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
پاکستان کی جانب سے فیلڈنگ میں کئی غلطیاں سامنے آئیں لیکن حسن علی نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے10 اوورز میں 52 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اننگز کی آخری گیند پر میکسویل کا وکٹ حاصل کیا جنھوں نے 44 گیندوں پر 78 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
آسٹریلیا کی پہلی وکٹ 17ویں اوور کی دوسری گیند پر گری جب عثمان خواجہ 30 رنز بنا کر حسن علی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ حسن علی نے وارنر کو بھی آؤٹ کیا لیکن اس وقت تک وہ 11 چوکے اور دو چھکوں کی مدد سے 130 رنز بنا چکے تھے۔ تیسری وکٹ کپتان سمتھ کی تھی جو نصف سنچری بنانے سے چوک گئے اور 49 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
بعد میں آنے والے کھلاڑی میکسویل اور ہیڈ نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچریاں سکور کیں. ہیڈ کی وکٹ محمد عامر کے حصے میں آئی۔
پاکستان کی جانب سے کپتان اظہر علی ٹیم میں واپس آ گئے ہیں اور اس لیے اسد شفیق حتمی 11 کھلاڑیوں میں جگہ نہیں بنا پائے۔
پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر کے بجائے محمد حفیظ نے بولنگ کا آغاز کیا۔
سیریز کے پہلے ميچ میں آسٹریلیا نے جیت حاصل کی تھی تو دوسرے میچ میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی تھی۔ جبکہ تیسرے میچ میں ایک بار پھر آسٹریلیا فاتح ٹھہری۔
آسٹریلیا کی جانب سے مچل سٹارک ایک بار پھر ٹیم میں واپس آ گئے ہیں جبکہ سپنر ایڈم زیمپا کو سیریز میں پہلی بار کھیلنے کا موقع ملا ہے۔







