آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یونس خان کی سنچری مگر پاکستان اب بھی 267 رنز پیچھے
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
یونس خان سیریز کے آخری ٹیسٹ میں کھوئی ہوئی فارم دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن ان کی 34ویں سنچری کے باوجود پاکستانی ٹیم کی مشکلات کم نہیں ہوئی ہیں اور اس نے سڈنی ٹیسٹ کے تیسرے دن اپنی پہلی اننگز میں 271 رنز پر آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔
پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے پہلی اننگز کے سکور 538 رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ سے اب بھی 267 رنز پیچھے ہے اور اس کی صرف دو وکٹیں باقی ہیں۔
یونس خان آسٹریلوی سرزمین پر پہلی سنچری بناکر دنیا کے پہلے بیٹسمین بنے ہیں جنھوں نے متحدہ عرب امارات سمیت 11 ممالک میں ٹیسٹ سنچری سکور کی ہے ۔اس سے قبل بھارت کے راہل ڈراوڈ کو ٹیسٹ رکنیت رکھنے والے تمام دس ممالک میں سنچری کااعزاز حاصل تھا۔
بارش نے کھیل کو صرف 54 اوورز تک محدود رکھا لیکن آسٹریلوی ٹیم اس دوران چھ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ درحقیقت پاکستان نے یہ چھ وکٹیں سکور میں صرف 112 رنز کے اضافے پر گنوادیں۔
اظہرعلی اور یونس خان نے پاکستان کی پہلی اننگز 126رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی لیکن یہ دونوں اسکور میں صرف 26 رنز کا اضافہ ہی کرپائے۔
ان کی 146 رنز کی شراکت اظہرعلی کے رن آؤٹ ہونے پر ختم ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونس خان نے شارٹ مڈ وکٹ پر گیند کھیلی اور رن لینے دوڑے لیکن اظہرعلی تذبذب کا شکار دکھائی دیے اور مچل اسٹارک کی تھرو پر پیٹرہینڈس کومب نے انھیں رن آؤٹ کردیا جو بیمار میتھیو ویڈ کی جگہ وکٹ کیپنگ کررہے ہیں۔
اظہرعلی نے سات چوکوں کی مدد سے71 رنز بنائے۔
وہ اس سیریز میں ابتک ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے395 رنز بناچکے ہیں جو آسٹریلیا میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔ اس سے پہلے سنہ 1983 کی سیریز میں محسن خان نے 390 رنز بنائے تھے۔
کپتان مصباح الحق خراب فارم کے گرداب سے نہ نکل سکے اور نیتھن لائن کی بولنگ پر مشکل میں دکھائی دینے کے بعد انہی کی گیند کو مڈ وکٹ پر کھیلنے کی کوشش میں متبادل فیلڈر جیکسن برڈ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
مصباح الحق 18 رنز بناسکے۔ سنہ 2002 میں آسٹریلیا ہی کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز کے بعد موجودہ سیریز مصباح الحق کے لیے مایوس ترین ثابت ہوئی ہے جس میں ان کی بیٹنگ اوسط صرف 60۔7 ہے۔
اسد شفیق صرف چار رنز بناکر اسٹیو اوکیف کی گیند پر اسمتھ کے ہاتھوں کیچ ہوئے جنھوں نے وکٹ کیپر ہینڈس کومب کے گلوز سے نکل جانے والی گیند کو خوبصورتی سے کیچ کیا۔
یونس خان نے اپنی سنچری دو سو آٹھ گیندوں پر ایک چھکے اور اننگز کے دسویں چوکے کی مدد سے مکمل کی۔
سرفراز احمد 18 رنز بناکر مچل اسٹارک کی گیند پر گلی پوزیشن پر جیکسن برڈ کے ہاتھوں کیچ ہوئے ۔
سرفراز احمد جن کی بیٹنگ مشکل صورتحال میں پاکستانی ٹیم کے کام آتی رہی ہے حالیہ کچھ عرصے سے کوئی بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ آخری 20 ٹیسٹ اننگز میں وہ صرف 3 نصف سنچریاں بنا سکے ہیں۔
کھیل کے آخری لمحات میں نیتھن لائن محمد عامر اور وہاب ریاض کی وکٹیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔
محمد عامر چار رنز بنا کر وارنر کے ہاتھوں کیچ ہوئے جبکہ وہاب ریاض آٹھ رنز پر بولڈ ہوئے۔
کھیل کے اختتام پر یونس خان 136 اور یاسر شاہ پانچ رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔
یونس خان دس ہزار رنز کے سنگ میل سے اب صرف 75 رنز دور ہیں۔