وارنر اور رینشا کی سنچریاں، پاکستانی بولنگ بے بس

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ڈیوڈ وارنر اور میٹ رینشا کی شاندار سنچریوں کے سبب آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف سڈنی میں کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے پہلے دن اپنی پہلی اننگز میں 365 رنز بنائے تھے اور اس کے صرف تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں۔

میٹ رینشا 18چوکوں کی مدد سے 167 اور پیٹر ہینڈس کومب 40 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں، ان دونوں کی شراکت میں 121 رنز کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ڈیوڈ وارنر اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کھانے کے وقفے سے قبل سنچری بنانے والے دنیا کے پانچویں بیٹسمین بن گئے۔

ان سے قبل وکٹر ٹرمپر، چارلی میکارٹنی، سرڈان بریڈمین اور ماجد خان ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کھانےکے وقفے سے قبل سنچری بنا چکے ہیں۔

سٹیو سمتھ نے اپنے 50ویں ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر سال نو کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلوی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں۔ جیکسن برڈ اور نک میڈنسن کی جگہ ہلٹن کارٹ رائٹ اور سٹیو اوکیف کو شامل کیا گیا ہے۔

پاکستانی ٹیم بھی دو تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔ آؤٹ آف فارم سمیع اسلم کی جگہ شرجیل خان کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے جبکہ سہیل خان نے عمران خان کے لیے جگہ خالی کی ہے۔

ڈیوڈ وارنر اور میٹ رینشا نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 151 رنز کا اضافہ کیا۔ اس دوران وارنر پاکستان بولنگ پر مکمل طور پر چھائے رہے۔ انھوں نے اپنی سنچری صرف 78 گیندوں پر مکمل کی۔

وہ 17 چوکوں کی مدد سے 113رنز بناکر وہاب ریاض کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

عثمان خواجہ تین کے انفرادی اسکور پر عمران خان کی گیند پر بابراعظم کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچے، تاہم وہ 13 رنز بنا کر وہاب ریاض کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔

گذشتہ دو ٹیسٹ میچوں میں سنچری بنانے والے سٹیو سمتھ اس بار 24 رنز بنا کر یاسر شاہ کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

میٹ رینشا نے اپنی پہلی سنچری 201 گیندوں پر آٹھ چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔

یہ 14 سال میں پہلی بار ہوا ہے کہ دونوں آسٹریلوی اوپنروں نے سڈنی میں ٹیسٹ کی ایک ہی اننگز میں سنچریاں بنائی ہیں۔

رینشا کو 137 کے انفرادی اسکور پر امپائر رچرڈ النگورتھ نے یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو دے دیا لیکن ریویو نےیہ فیصلہ غلط ثابت کر دکھایا کیونکہ گیند پہلے بلے پر لگی تھی۔

پیٹرہینڈس کومب نو کے انفرادی اسکور پر یاسر شاہ کی گیند پر سٹمپ ہونے سے بال بال بچے۔

پاکستانی بولنگ ایک بار پھرخاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ وہاب ریاض نے 63رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں، جب کہ یاسر شاہ ایک وکٹ کے حصول کے لیے 132 رنز دے چکے ہیں۔

محمد عامر 58رنز دے کر ابھی تک پہلی کامیابی کے منتظر ہیں، جب کہ عمران خان کو 81 رنز دینے کے بعد بھی پہلی وکٹ کا انتظار ہے۔

وارنر کا اعزاز

وارنر کسی بھی ٹیسٹ میچ کے پہلے روز کھانے کے وقفے سے پہلے اپنی سنچری مکمل کرنے والے پانچویں بیٹسمین بن گئے ہیں اور آسٹریلیا میں یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے بیٹسمین ہیں۔

اس سے قبل یہ کارنامہ سرانجام دینے والوں میں درج ذیل بیسٹمین شامل ہیں:

ماجد خان، پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ، کراچی، سنہ 1976

ڈونلڈ بریڈمین، آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ، لیڈز، سنہ 1930

چارلز میک کارٹنی، آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ، لینڈز، سنہ 1926

وکٹر ٹرمپر، آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ، مانچسٹر، سنہ 1902

خیال رہے کہ آسٹریلیا کو پہلے ہی سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہے۔

میزبان ٹیم نے پہلے برسبین میں کھیلے گئے دے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میں پاکستان کو 39 رنز سے شکست دی اور پھر میلبرن ٹیسٹ میں اننگز اور 18 رنز سے آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی تھی۔