بطور بلے باز ٹیم کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تو کسی اور کو ٹیم میں کھلانا بہتر ہے: مصباح

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ذیشان علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اگر وہ ٹیم کے لیے بطور بیٹسمین کچھ نہیں کر پاتے ہیں تو ان کی جگہ کسی اور کو ٹیم میں کھلانا بہتر ہوگا۔
میلبرن میں آسٹریلیا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ اب ان کے ٹیم میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچنے کا وقت آگیا ہے۔
مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے تو گذشتہ چھ سالوں سے ہر صورتحال ہی الارمننگ رہی ہے اور میں جانتا ہوں کہ لوگ تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔‘
خیال رہے کہ میلبرن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پانچویں روز پاکستان کی پوری ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 163 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور اس طرح اسے اننگز اور 18 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اس میچ کی پہلی اننگز میں مصباح الحق 11 اور دوسری اننگز میں بنا کوئی رن بنائے آوٹ ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصباح الحق گذشتہ سات اننگز میں کوئی بھی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انھوں نے اپنی کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ ’اب مجھے یہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہے کہ اگر میں بطور بلے باز ٹیم کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تو کسی اور کو ٹیم میں کھلانا بہتر ہے۔‘
یاد رہے کہ رواں سال آئی سی سی کی جانب سے 42 سالہ مصباح الحق کو اپنی ٹیم کو کھیل کو اس کے روح کے مطابق کھیلنے کے لیے متاثر کرنے اور اپنے ملک میں بغیر کوئی ٹیسٹ میچ کھیلے عالمی رینکنگ میں نمبر چار سے پہلی پوزیشن پر پہنچانے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مصباح الحق پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز جیتنے والے کپتان بھی ہیں۔
مصباح کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں گے۔ ان کے بقول ’تیسرے ٹیسٹ سے قبل یا سیریز کے بعد میں اس بارے میں سوچوں گا، کیونکہ بنا کچھ کیے ٹیم کے ساتھ رہنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں تو صرف انڈیا کے خلاف سریز کا انتظار کر رہا تھا ورنہ میرا تو کافی پہلے ریٹائر ہونے کا ارادہ تھا۔‘
واضح رہے کہ مصباح الحق پاکستان کی جانب سے 50 سے زائد ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کرنے والے پہلے پاکستانی کرکٹر بھی ہیں۔
مصباح الحق پاکستان کی جانب سے 71 ٹیسٹ میچوں میں 46 عشاریہ ایک سات کی اوسط سے 124 اننگز میں 4895 رنز بنا چکے ہیں جس میں دس سنچریاں اور 36 نصف سنچریاں شامل ہیں۔











