برسبین میں سمتھ کی سنچری، آسٹریلیا کے 288 رنز

سٹیو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسمتھ اپنی 16ویں ٹیسٹ سنچری سکور کرنے کے بعد کھیل کے اختتام پر 110 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف برسبین کے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں پہلے دن کھیل کے اختتام پر کپتان سٹیون سمتھ کی سنچری اور میٹ رینشا اور پیٹر ہینڈزکومب کی نصف سنچریوں کی بدولت پہلی اننگز میں 288 رنز بنا لیے جبکہ اس کے تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں۔

سمتھ اپنی 16ویں ٹیسٹ سنچری سکور کرنے کے بعد کھیل کے اختتام پر 110 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔

پیٹر ہینڈزکومب 64 رنز پر ان کے ساتھ کریز پر موجود تھے اور دونوں نے چوتھی وکٹ کے لیے ناقابل شکست شراکت میں137 رنز کا اضافہ کیا ہے۔

سمتھ نے لگاتار چھ ٹیسٹ میچوں میں ٹاس ہارنے کے بعد پہلا ٹاس جیت کر آسٹریلیا کی تیز ترین سمجھی جانے والی وکٹ پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو اوپنر میٹ رینشا اور ڈیوڈ وارنر نے اپنی ٹیم کو 70 رنز کا پراعتماد آغاز فراہم کیا۔

ڈیوڈ وارنر نے جو جارحانہ بیٹنگ کے لیے شہرت رکھتے ہیں، اپنے مخصوص انداز سے ہٹ کر بیٹنگ کی اور 70 گیندوں پر صرف دو چوکوں کی مدد سے 32 رنز بناکر محمد عامر کی گیند پرایل بی ڈبلیو ہوئے۔

سٹیون سمتھ

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی ٹیم گذشتہ 28 سالوں سے برسبین کے میدان پر کوئی میچ نہیں ہاری ہے

پاکستان میں پیدا ہونے والے عثمان خواجہ اپنے سابق ہم وطنوں کے خلاف بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور صرف 4 رنز بناکر یاسر شاہ کی گیند پر مڈوکٹ پر مصباح الحق کو کیچ دے گئے۔

اس کے بعد سمتھ اور رینشا نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 76 رنز کا اضافہ کیا۔

رینشا نے اپنے دوسرے ٹیسٹ میں پہلی نصف سنچری مکمل کی تاہم اسے وہ تین ہندسوں میں تبدیل نہ کرسکے اور 71 کے انفرادی سکور پر وہاب ریاض کی گیند پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

سمتھ کی خوش قسمتی کہ 53 کے انفرادی اسکور پر سرفراز احمد نے اظہرعلی کی گیند پر ان کا کیچ گرادیا اور جب ان کا اکور 97 تھا محمد عامر کی گیند پر سرفراز احمد نے کیچ کی اپیل ہی نہیں کی حالانکہ ہاٹ اسپاٹ اور اسنیکو نےگیند بلے کو چھونے کی نشاندہی کی ۔

انھوں نے محمد عامر کو چوکا لگاکر سنچری مکمل کی جو اس سال اگست میں سری لنکا کے خلاف کولمبو کے بعد آٹھ اننگز میں ان کی پہلی سنچری ہے۔

رینشو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرینشو نے 125 گیندوں میں نو چوکوں کی مدد سے 71 رنز بنائے

ہینڈزکومب نے جو رینشا کی طرح اپنا محض دوسرا ٹیسٹ کھیل رہے ہیں بڑے اعتماد سے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی دوسری نصف سنچری چھ چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔

پاکستانی بولرز کے لیے پہلا سیشن اس لحاظ سے قدرے اچھا رہا کہ اس میں وہ دو وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے لیکن اس کے بعد آسٹریلوی بیٹسمین پاکستان بولنگ پر حاوی نظر آئے اور کسی بھی بولر کو ایک سے زائد کامیابی نہ مل سکی اور تین بولرز محمد عامر۔ یاسر شاہ اور وہاب ریاض کو ایک ایک وکٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

آسٹریلیا نے اس ٹیسٹ میں اپنی اسی ٹیم کو برقرار رکھا ہے جس نے جنوبی افریقہ کو ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں شکست دی تھی۔

پاکستانی ٹیم میں کپتان مصباح الحق یاسر شاہ اور راحت علی کی واپسی کے لیے محمد رضوان۔ عمران خان اور سہیل خان کو جگہ چھوڑنی پڑی۔

مصباح الحق سلو اوور ریٹ پر ایک میچ کی معطلی کی وجہ سے ہیملٹن ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔