خبردار: یہاں ٹافی کھانا منع ہے!

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
یہ تو تاحال معلوم نہیں ہو پایا کہ ایک ٹافی کے کیمیائی اجزا میں ایسا کیا تھا جس کی بنیاد پہ فاف ڈو پلیسی کو بال ٹیمپرنگ کا مرتکب قرار دیا گیا، مگر یہ ضرور پتہ چل گیا کہ کرکٹ بال کے ساتھ چھیڑخانی 32 کیمروں کی موجودگی میں بھی ہو سکتی ہے اور یہ کیمرے اپنی تمام تر تکنیکی باریک بینی کے باوجود کھلاڑیوں کے منہ میں جھانکنے سے قاصر رہتے ہیں۔
اس واقعے پہ سابق کرکٹروں کی جو آرا سامنے آئیں، ان میں سارو گنگولی کا تبصرہ سب سے زیادہ دلچسپ تھا۔ انھوں نے کہا کہ گیند چمکانے کے لیے ٹافیوں کا استعمال کوئی نئی بات نہیں، ہاں مگر فاف نے یہ حرکت یوں کھلے عام کر کے بے وقوفی کی ہے۔
گویا کرکٹ بال کو چمکانے کے لیے مصنوعی ذرائع کا استعمال توغلط نہیں مگر ایسا کرتے پکڑے جانا قابل مذمت ہے۔
سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی نے اس سارے شور شرابے کو بلا جواز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو سب کرتے ہیں اور یہ سب کو معلوم ہے۔ یہ کھلاڑیوں اور ٹیموں کے درمیان ایک طرح کا خاموش معاہدہ سا ہے، آئی سی سی کو یہ سمجھنا چاہیے۔
بالفاظ دگر ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ 'جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔'
فاف نے بھی اپنے دفاع میں یہی تاویل پیش کی کہ جب ہر کوئی یہ کرتا ہے تو انھوں نے کیا غلط کر دیا؟ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کی ٹافی کیمرے میں نظر آ گئی۔ اگر ٹافی نظر نہ آتی تو کوئی طوفان نہ اٹھتا۔
ایک اور دلچسپ پیش رفت یہ ہوئی کہ اس معاملے کی آئی سی سی میں سماعت کے دن ہی دو اور فوٹیجز بھی سوشل میڈیا پہ آئیں۔ ایک جگہ وراٹ کوہلی کچھ ویسا ہی کرتے دیکھے گئے جس کی بنیاد پہ فاف معتوب ٹھہرے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہم علم الانسان پہ تحقیق میں اپنی تمام تر مہارت کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کسی کھلاڑی کے ٹافی کھانے سے گیند کا شوگر لیول کیسے ڈسٹرب ہو سکتا ہے۔
بعض احباب کی جانب سے تو یہ تھیوری بھی پیش کی گئی کہ لیدر پالش میں چینی ڈال کر اسے ٹافی یا چیونگ گم بنایا جاتا ہے اور پھر اس کی مدد سے گیند کو مصنوعی چمک دی جا سکتی ہے۔
کوہلی کے ساتھ ہی ریلیز ہونے والی وارنر کی فوٹیج نے تو گفتگو کا دائرہ مزید وسیع کیا۔ پتہ چلا کہ اب بات صرف ٹافیوں تک ہی محدود نہیں رہی، ہئیر جیل، سن بلاک، لپ بام اور باڈی لوشنز وغیرہ بھی گیند کو ریورس سوئنگ کے قابل بنانے میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
آئی سی سی پہ بھی اعتراضات اٹھائے گئے کہ جب کوہلی کو کچھ نہیں کہا گیا تو فاف کو سزا کیوں دی گئی؟ مگر پھر وضاحت سامنے آئی کہ آئی سی سی قوانین کے مطابق ایسے کسی بھی مشکوک واقعے کو میچ ختم ہونے کے بعد پانچ دن کے اندر ریفری کے علم میں لایا جانا ضروری ہے۔ اس لیے کوہلی اور وارنر بچ گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یعنی اگر آپ کے گھر چوری ہو جائے تو آپ کا فرض ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ کریں لیکن اگر مال مسروقہ کی نوعیت اتنی غیر محسوس تھی کہ ہفتے بعد کہیں آپ کو سی سی ٹی وی فوٹیج سے اس کا علم ہوا تو آپ رپورٹ کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے کیونکہ آپ کو تو مقررہ وقت میں پتا ہی نہیں چلا کہ آپ کے ہاں چوری ہو گئی۔
مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ٹافی آلود لعاب دہن سے گیند کو چمکانا واقعی ایک سنگین جرم ہے تو کوہلی اور وارنر کو قانونی نہ سہی، اخلاقی پیرائے میں ہی وارننگ تو دی جا سکتی تھی۔
سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آن فیلڈ امپائروں کا یہ معمول ہے کہ وہ ہر اوور کے بعد گیند چیک کرتے ہیں تو ایسا کیسے ہو گیا کہ فاف گیند کے ساتھ کیمیائی عوامل کرتے رہے اور امپائروں کو پتہ ہی نہ چلا۔
لیکن ہر دو سے کہیں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آئی سی سی کے بال ٹیمپرنگ کے قانون میں اس قدر ابہام ہے کہ کھلاڑی اس کنفیوژن کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
قانون یہ کہتا ہے کہ گیند کو کسی بھی 'مصنوعی' طریقے سے چمکانا بال ٹیمپرنگ کے زمرے میں آتا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کرتا کہ مصنوعی ذریعے سے مراد کیا ہے۔
کیا صرف بوتلوں کے ڈھکن ہی مصنوعی ذریعہ ہیں یا ٹافیاں، نمکو، بسکٹ، پان چھالیہ وغیرہ بھی اسی مد میں آتے ہیں؟
چلیے یہ تو ٹھہری غذائی بال ٹیمپرنگ جس کا اگر توڑ کرنا بھی ہو تو کھلاڑیوں کے آن فیلڈ کھانے پینے پہ پابندی لگائی جا سکتی ہے اور امپائروں کو اس کام پہ مامور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہر اوور سے پہلے سبھی فیلڈرز کے منہ سونگھیں، آیا وہ کچھ چبا تو نہیں رہے۔
لیکن، اس کے علاوہ گیند چمکانے کے جو دیگر مصنوعی ذرائع مستعمل ہیں ان کا کیا کیا جائے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ کھلاڑیوں کے ہئیر جیل اور سپرے پہ پابندی لگا دی جائے، سن بلاک لگانا ممنوع قرار دیا جائے یا لپ بام کا استعمال غیر مہذب حرکات میں شمار کیا جائے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ سرخ چمڑے کی گیند کو اگر ایک طرف سے چمکدار رکھا جائے تو یہ ریورس سوئنگ ہو سکتی ہے مگر یہ کسی کو ٹھیک سے معلوم نہیں ہے کہ وہ گیند چمکانے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے۔ آئی سی سی کو اب یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ گیند چمکانے اور بگاڑنے میں فرق کہاں سے شروع ہوتا ہے۔
فاف کا یہ کہنا ہے کہ وہ گیند چمکا رہے تھے، اسے خراب نہیں کر رہے تھے۔ انھوں نے آئی سی سی کے فیصلے کو بھی مسترد کیا ہے۔ کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے بھی اسے چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں کچھ نئے موضوعات بھی جنم لے سکتے ہیں۔
- کیا کرکٹ بال کو چمکانا کھیل کی روح کے منافی ہے؟
- کیا کھلاڑیوں کو دوران کھیل مشروبات اور ماکولات استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟
- کیا ہئیر جیل اور سن بلاک ایسے مصنوعی ذرائع ہیں جو پلئیرز کی جلد کے علاوہ کرکٹ بال کی صحت پہ بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں؟
فاف کے دلائل کو دیکھا جائے تو بظاہر یہ جواز بنتا ہے کہ 'بھئی جب سبھی ایسا کر رہے ہیں تو میں نے کون سا پہاڑ گرا دیا؟' مگر منطقی اعتبار سے یہ شاید اتنی ہی کھوکھلی دلیل ہے جتنی عمر اکمل اور ٹریفک وارڈنز کے درمیان ہوا کرتی ہیں۔
بہر طور، اب آئی سی سی کو یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ کھلاڑی گراونڈ پہ آتے وقت اپنے سر پہ کیا کیا لگا سکتے ہیں اور منہ میں کیا کیا چبا سکتے ہیں۔ اب یہ تو ریسرچ ہی بتا پائے گی کہ میٹھی ٹافی کھانے سے کرکٹ بال کی صحت کیسے بگڑ سکتی ہے، مگر یہ تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ لیدر پالش پہ شکر ڈال کر کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اگر واقعی لیدر پالش نما کیمیکلز کھانے پینے کی چیزوں میں ڈال کر گیند چمکانے کے اسباب مہیا کیے جا رہے ہیں تو یہ کرکٹ کے مستقبل کے علاوہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہے۔
یہ تو واضح ہے کہ چیونگم، چاکلیٹ، لالی پاپ، ٹافی، ہئیر جیل یا باڈی سپرے پہ پابندی لگا کر کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش خاصی مضحکہ خیز ثابت ہو سکتی ہے مگر یہ تو ممکن ہے کہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کرکٹ کو یقینی بنایا جائے اور لیدر پالش کو کھانے پینے کی اشیا سے دور رکھا جائے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم گراونڈز کے باہر یہ وارننگ لکھوا دی جائے
خبردار: یہاں ٹافی کھانا منع ہے!








