کمزور ویب کوڈ، ہیکرز کا مددگار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویب سائٹس ڈیرائن کرنے والے افراد کی جانب سے پرانی غلطیوں کا دہرایا جانا ویب ہیکرز کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ان سائٹس پر جانے والے افراد کو اپنی سائٹس کی جانب لے جائیں۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق ویب سائٹس کے لیے بنائے جانے والے کوڈ میں موجود کئی ایسے ’لوپ ہول‘ موجود ہیں جن کے بارے میں لوگ قریباًایک عشرے سے جانتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ غلطیاں ان تکنیکی طور پر مضبوط مجرموں کے لیے نعمت ثابت ہو رہی ہیں جو اپنے شکار کی تلاش میں ہیں۔ سکیورٹی فرم سمنٹک کے مطابق اس لحاظ سے ہیکر حملوں کا ممکنہ شکار بننے والی ویب سائٹس کی تعداد سنہ 2007 کے آخری چھ ماہ میں دوگنی ہوگئی ہے۔ سمنٹک کے سکیورٹی آپریشنز کے ڈائریکٹر کیون ہوگن کا کہنا ہے کہ ’بگ‘ سے متاثر ویب کوڈ بہت سی عام ویب سائٹس پر جانے والوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے اور’اس سے یہ خیال غلط ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ جوئے یا عریانیت دکھانے والی ویب سائٹس سے دور رہیں تو آپ محفوظ ہیں‘۔ کیون ہوگن کے مطابق زیادہ سے زیادہ ہیکر اب ایسی ویب سائٹس کی تلاش میں ہیں جننہیں بنانے میں یہ ویب کوڈ استعمال کیے گئے ہیں کیونکہ ایسی سائٹس کو ہیک کرنا آسان ہوتا ہے۔ سیمنٹک کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ویب سائٹس ایڈمنسٹریٹر اس تکنیکی خلاء کو پُر کرنے کے لیے بہتر کام نہیں کر رہے۔ | اسی بارے میں اڈوبی ریڈر سے ہیکنگ کا خطرہ06 January, 2007 | نیٹ سائنس ہیکنگ کے خلاف ایف بی آئی کی مہم15 June, 2007 | نیٹ سائنس بی بی سی اور یاہُو کا ’یوم ہیکنگ‘16 June, 2007 | نیٹ سائنس پنٹاگون کی ای میل پر ہیکرز کا حملہ22 June, 2007 | نیٹ سائنس آن لائن بلی چوہے کا کھیل جاری رہے گا؟27 August, 2007 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ جرائم ایک بڑا کاروبار17 September, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||