انٹارکٹیکا:ماحولیاتی حدت کا اثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹارکٹیکا میں برطانوی جزیرے ’آئل آف مین‘ جتنا بڑا ایک برف کا تودا ٹوٹ کر الگ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہےکہ یہ ماحولیات میں بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے مزید شواہد پیش کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل کی گئی تصاویر سے پتہ چلا ہے کہ برف کے ایک بڑے حصے میں شگاف پیدا ہوگیا ہے اور جلد ہی وہ ٹوٹ کر الگ ہوجائےگا۔ ولکنس نامی یہ برفانی سلسلہ گزشتہ صدی تک مستحکم رہا ہے لیکن 1990 کی دہائی سے یہ پگھلنا شروع ہو گیا تھا۔ برطانوی انٹارٹک سروے (بی اے ایس) کے مطابق اسی خطے کے برف کے چھ تودے پہلے ہی غائب ہو چکے ہیں۔ بی اے ایس کے پروفیسر ڈیوڈ واؤگھان کا کہنا ہے’انٹارکٹک جزیرے میں ولکنس سب سے بڑا برف کا تودہ ہے جسے خطرہ لاحق ہو سکتا تھا لیکن مجھے یہ امید نہیں تھی کہ یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا۔ یہ تودہ ایک نازک وقت سے گزر رہا ہے، آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں اس کے مستقبل کے بارے میں پتہ چل جائے گا۔‘ پروفیسر واؤگھان نے 1993 میں پیشین گوئی کی تھی کہ اگر عالمی حدت یوں ہی جاری رہی تو ولکنس تودے کا شمالی حصہ آئندہ تیس برسوں میں ختم ہو جائے گا۔ سیٹلائٹ کے ذریعے روزانہ نگرانی کر کے حاصل کی گئی تصاویروں کے ذریعے بی اے ایس کے اہلکاروں کو تودے کے ٹوٹنے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے اپنا ایک طیارہ وہاں بھیجا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر وہاں ہو کیا رہا ہے۔ پروفیسر واؤگھان نے اس مشن کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا’ ہم نے اس مقام کے اوپر پرواز کی جہاں دراڑ پڑی ہے اور برف کے تودے کے ٹوٹنے کی رفتار کا مشاہدہ کیا۔‘ انہوں نے بتایا ’ گھروں کے برابر برف کے تودے اِدھر اُدھر گر رہے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی دھماکہ ہو رہا ہے۔‘ چونکہ یہ ایک برف کی موٹی تہ ہوتی ہے اور سمندر کے پانی پر تیرتی رہتی ہے اس لیے اس سے سمندر کی سطح پر کوئی اثر نہيں پڑے گا۔ لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے عالمی حدت کے اس خطے پر ہونے والے اثرات سے تشویش ضرور پیدا ہو گی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما انٹارٹک میں گزشتہ پچاس برسوں میں بڑے پیمانے پر عالمی حدت کے اثرات نظر آئے ہیں۔ بعض محققین کے کا خیال ہے کہ ولکنس تودہ تھوڑے دن اور بچ جائے کیوں کہ انٹارکٹک میں برف پگھلنے کا موسم ختم ہونے والا ہے۔ کولوراڈو یونیورسٹی کے نیشنل سنو اینڈ آئس ڈیٹا سنٹر کے ڈاکٹر ٹیڈ سکامبوس کا کہنا ہے ’اس موسم کے لیے یہ غیر معمولی عمل ختم ہو چکا ہے۔ آئندہ جنوری میں ہم دیکھیں گے کہ کیا ولکنس کا ٹوٹنا جاری رہتا ہے یا نہیں؟ ‘ |
اسی بارے میں ماحولیاتی تحفظ کے معیار سخت13 March, 2008 | نیٹ سائنس اوزون کا شگاف بڑھ نہیں رہا23 August, 2006 | نیٹ سائنس کروڑوں غریب لوگ متاثر ہوں گے06 April, 2007 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||