چمگادڑ کی نقل پر ٹیومر کی تشحیص | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکاٹ لینڈ میں سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ چمگادڑوں کی صلاحیت کی نقل کرتے ہوئے ایک ایسا آلہ تیار کر لیں گے جس سے انسانی جسم میں چھپے ٹیومر کا پتہ لگانے میں مدد ملے گی۔ سائنسدانوں کی یہ ٹیم بیماری کی تشخیص کا ایک آلہ تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو اُسی تکنیک پر مبنی ہوگا جو تکنیک کچھ جانور چیزوں کی شناخت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر چمگادڑ دیکھ نہیں سکتی لیکن وہ آواز کی لہریں چھوڑتی ہے اور ان لہروں کی گونج سے چمگادرڑ اپنا راستہ یا شکار کا پتہ لگاتی ہے۔سانسدانوں کی ٹیم بالکل اسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے جسم میں چھپے ہوئے ٹیومر کا پتہ لگانے کی کوشش کر ے گی۔ انجینئر میگزین میں شائع رپورٹ کے مطابق جس طرح چمگادڑ، ڈولفن اور وہیل مچھلی میں اپنے الٹرا ساؤنڈ سگنل کواپنے نشانے کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کرنے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے یہ تحقیق بالکل اسی طرز پر مبنی ہے۔ یہ ساؤنڈ یا آوازیں الگ الگ چیزوں کا پتہ لگانے کے لیے ہوتی ہیں جیسے ہو سکتا ہے کہ چمگادڑ کی کوئئ الٹرا ساؤنڈ کچھ ایسی ہوتی ہو جو صرف شکار کا پتہ لگانے کے لیے ہو۔اس آواز کی گونج چمگادڑ کو بتاتی ہے کہ ہوا میں جو چیز ہے وہ کوئی کیڑا ہے کسی درخت کا پتہ نہیں۔ اس ریسرچ کے سربراہ پروفیسر گورڈن ہیوارڈ کا کہنا ہے کہ چمگادڑ ، ڈولفن اور وہیلز راستہ اور شکار تلاش کرنے کے لیے بہت پیچیدہ اور مختلف مختلف ساؤنڈز پیدا کرتی ہیں۔ پروفیسر گورڈن کے انجینئیرز کی ٹیم عرضیات کے ماہرین کے ساتھ ملکر مخلتف اہداف کے لیے مختلف ساؤنڈز تیار کرنے کا کام کر رہی ہے اور توقع ہے کہ اگلے تین سال میں یہ ٹیم اپنا کام مکمل کر لے گی۔ |
اسی بارے میں پھل، سبزیاں اور سرطان سے بچاؤ 26 July, 2004 | نیٹ سائنس کیا شہد سے سرطان کا علاج ممکن ؟06 December, 2004 | نیٹ سائنس خون کا دشمن ٹیلی فون ؟07 April, 2004 | نیٹ سائنس انار مثانے کے کینسر میں مفید: تحقیق01 October, 2005 | نیٹ سائنس بہار کا خودکشی سے کیا تعلق؟02 May, 2006 | نیٹ سائنس سرطان سے چھٹکارا جین تھراپی سے01 September, 2006 | نیٹ سائنس کیموتھریپی جین پر خدشے کا اظہار19 May, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||