BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 September, 2007, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کام کرنے سے جوڑوں کا درد دور‘
لوگ
کام کرنا بیماری کی وجہ بھی ہو سکتی ہے اور اس کا علاج بھی: ڈاکٹر مشال مہڈن
ایک رپورٹ کے مطابق کمر اور جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو کام میں زیادہ سے زیادہ مصروف رہنا چاہیے۔

برطانوی ادارے ورک فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کام کرنے سے پٹھوں اور ہڈیوں کی بیماریوں سے جلد نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم کئی ڈاکٹروں اور مالکان کا یہ ماننا غلط ہے کہ کام پر واپس آنے سے قبل کسی بھی شخص کو سو فیصد تندرست ہونا چاہیے۔

ماہرین اس تحقیق سے اتفاق کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اس کا دارومدار کسی بھی شخص کی کام کی نوعیت پر بھی ہے۔ اگر ایک انسان سخت نوعیت کا کام کرتا ہے تو ایسی صورتحال میں کام کرنے سے اسے مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ورک فاؤنڈیشن کے مطابق برطانیہ میں 400,000 افراد جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں جن میں سے ایک تہائی افراد علاج کے پانچ سال کے اندر کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پٹھوں اور جوڑوں کی بیماریاں برطانیہ میں کام نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ گنی جاتی ہیں۔

ورک فاؤنڈیشن جس کا مقصد معاشی نظام اور کام کرنے والے لوگوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہے، کا کہنا ہے کہ ان بیماریوں میں مبتلا لوگ لمبے عرصے کی چھٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور اکثر تو کام کو مکمل طور پر ترک کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک ملین سے زائد افراد اس صورتحال سے دوچار ہیں اور ہر سال اس سے ہونے والے اخراجات 7.4 ارب پاؤنڈ ہیں۔ ڈاکٹروں کے وقت کا تین چوتھائی حصہ ایسے مریضوں کے علاج میں صرف ہو جاتا ہے جس سے نو اعشاریہ پانچ بلین دن ضائع ہو جاتے ہیں۔

 ہمیں فوری طور پر ڈاکٹروں اور مالکان کی اس بیماری سے متعلق رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور ان کی اس سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اس بیماری کے شکار افراد کا دوبارہ کام شروع کرنے سے قبل مکمل طور پر صحتیاب ہونا ضروری ہے
مشال مہڈن، دی ورک فاؤنڈیشن

فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ حقائق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جلد از جلد کام پر واپس لوٹنا فائدے مند ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورتحال میں ڈاکٹروں اور مالکان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ لوگ کیا کر سکتے ہیں ناکہ وہ اس بات پر زور دیں کہ لوگ کیا نہیں کر سکتے۔

سینیئر ریسرچر مشال مہڈن کا کہنا ہے کہ ’ پٹھوں اور جوڑوں کا درد ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے برطانیہ میں ہر سال ایک ملین افراد اثرانداز ہو رہے ہیں اور یقیناً ان کے خاندان والے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کام کرنا بیماری کی وجہ بھی ہو سکتی ہے اور اس کا علاج بھی۔ اگر کام کی جگہ پر صحیح انتظام کیا جائے تو اس سے ان بیماریوں کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور اس سے لوگوں میں خود اعتمادی بھی بحال ہوگی‘۔

’ہمیں فوری طور پر ڈاکٹروں اور مالکان کے اس بیماری سے متعلق رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور ان کی اس سوچ کو بدلنا ہوگا کہ اس بیماری کے شکار افراد کا دوبارہ کام شروع کرنے سے قبل مکمل طور پر صحتیاب ہونا ضروری ہے‘۔

نیشنل ڈائریکٹر آف ہیلتھ اینڈ ورک پروفیسر کیرل بلیک کا کہنا ہے کہ’ مجھے امید ہے کہ وقت کے ساتھ پٹھوں اور ہڈیوں کی بیماری لوگوں کے کام پر کم اثر انداز ہو گی اور اس وقت تک ان بیماریوں سے متعلق لوگوں میں آگاہی پھیلانے کا کام زور و شور سے جاری رہنا چاہیے‘۔

اسی بارے میں
چاکلیٹ دل کے لیئے اچھا
28 February, 2006 | نیٹ سائنس
زیتون کے استعمال سے درد غائب
04 September, 2005 | نیٹ سائنس
پیراسیٹامول، جگر کی خرابی
08 December, 2005 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد