اب ایپل کا اپنا براؤزر’سفاری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیائے کمپیوٹر کے بہت بڑے ادارے ایپل نے مائکروسوفٹ کے انٹرنیٹ ایکسپلورر اور موزیلا کے فائر فاکس ویب براؤزرز کے مقابلے میں اپنا ایک علیحدہ براؤزر جاری کیا ہے جس کا نام سفاری ہے۔ ایپل کے دعوے کے مطابق سفاری براؤزر انٹرنیٹ ایکسپلورر اور فائر فوکس کے تمام کام ان سے بہتر انداز میں اور زیادہ تیزی سے انجام دے گا۔ سفاری کا اجراء ایپل کے سربراہ سٹیو جوبز نے سان فرانسسکو میں ایپل کے لیے مختلف پروگرام بنانے والے ماہرین کی ایک کانفرنس میں کیا اور کہا کہ سفاری دراصل ایپل کی بلند سوچ کا آئینہ دار ہے۔ ایپل کو امید ہے کہ سفاری بھی اس کے موسیقی کے آن لائن پلیئر آئی ٹیون کی طرح کامیاب ثابت ہوگا اور اس وقت چار اعشاریہ نو فیصد لوگوں کے مقابلے میں براؤزر استعمال کرنے والوں کی ایک زیادہ بڑی تعداد جلد اس کو اپنائے گی۔ سٹیو جوبز کے مطابق سفاری میں تین سو نئی خصوصیات ہیں جن کا دس طریقوں سے مظاہرہ کیا گیا ہے اور ان میں کمپیوٹر کے ڈیسک ٹاپ کے لیے سٹیکس کے نام سے فائلیں ترتیب دینے والا ایک نظام بھی ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر استعمال کرنے والا شخص فائلوں کی چیدہ چیدہ خصوصیات ان کو کھولے بغیر پڑھ سکتا ہے۔ ایپل نے یہ نظام پہلے آئی ٹیون میں متعارف کرایا تھا اور اب اسی سے ملتا جلتا نظام کوئک لُک کے نام سے سفاری میں شامل کیا گیا ہے۔ مثلاً اب سفاری استعمال کرنے والا کوئی بھی شخص کسی فلم کو کوئک ٹائم پلیئر میں کھولے بنا بھی مختصراً اس کے بارے میں پڑھ سکتا ہے۔ سٹیو جوبز نے سفاری کا اجراء کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ اس براؤزر کو استعمال کرنے والا کوئی بھی شخص اس کی کارکردگی اور خصوصیات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ اسی کانفرنس میں ایپل نے مستقبل قریب میں اپنے موبائل فون آئی فون کے لیے مختلف پروگرام تیار کرنے کے رضاکار خواہشمندوں کو بھی اس کی اجازت دے دی۔ کمپیوٹر پروگرام تیار کرنے والے اور ان کی ترقی پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین کے مطابق اپنے موبائل فون اور کچھ دوسرے اہم آلات کے سافٹ ویئر پروگرام تیار کرنے اور ان کو خود جانچنے کی بجائے ، ایپل نے دوسرے لوگوں کو اس کی اجازت دے کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اب دنیا بھر میں کمپیوٹر پروگرام ڈیزائن کرنے والے نہ صرف ایپل کی مصنوعات کو اپنے اپنے طریقوں کے مطابق ڈھال سکیں گے بلکہ اس کی بہتری کے لیے بھی مفت خدمات پیش کرسکیں گے۔ | اسی بارے میں ْآئی پوڈ کے بعد آئی فون کی آمد10 January, 2007 | نیٹ سائنس آئی پوڈ: ایپل دس کروڑ ڈالر دے گا24 August, 2006 | نیٹ سائنس ایپل کی آئی ٹیونز مقبول مگر؟17 September, 2006 | نیٹ سائنس آئی پوڈ کو زُون کے چیلنج کا سامنا 22 July, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||