حرکت بھانپ کر چلنے والا لیپ ٹاپ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک ایسا لیپ ٹاپ کمپیوٹر تیار کیا جا رہا ہے جو حرکت کو بھانپ کر وہ تمام کام کرنے کی صلاحیت رکھے گا جن کے لیے عام طور پر ’کی بورڈ‘ اور ’ماؤس‘ کی ضرورت پڑتی ہے۔ حرکت کے لیے حساس اس چھوٹے سے لیپ ٹاپ پر کمانڈ دینے کے لیے اسے اوپر نییچے، دائیں بائیں یا آگے پیچھے ہلانا پڑے گا اور ’کرسر‘ سکرین کے مطلوبہ مقام یا فائل پر پہنچ کر اپنا کام سرانجام دے سکے گا۔ برٹش ٹیلی کام کی تحقیقاتی لیبارٹری میں زیرِ تعمیر اس کمپیوٹر کو ’بی ٹی بیلنس سسٹم‘ کا نام دیا گیا اور ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے معذور اور ضعیف لوگ ’کی بورڈ‘ اور ’ماؤس‘ کے استعمال کے بغیر کمپیوٹر کی سہولیات سے استفادہ حاصل کر سکیں گے۔ حرکت بھانپنے والے اس لیپ ٹاپ پر کتابوں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے اور صفحات پلٹنے کے لیے محض ایک جھٹکے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح اگر اس کی سکرین پر نقشہ دیکھنا ہو تو طرفین کے لیے اسے متعلقہ سمت میں ہلکی سی حرکت دینی پرتی ہے۔ ’بی ٹی بیلنس سسٹم‘ میں حرکت پر ردعمل کی صلاحیت دو ایسے پرزوں کی وجہ سے ہے جو اس سے پہلے کبھی کمپیوٹرز میں استعمال نہیں کی گئی۔ ان میں سے ایک پرزہ ’ایکسیلرومیٹر‘ کہلانے والی مائیکرو چِپ ہے جبکہ دوسرا اہم حصہ کمپیوٹر کا وہ سافٹ وئیر ہے جو حرکت سے ملنے والی ہدایات کو سمجھ کر مطلوبہ کام سرانجام دیتا ہے۔ ایکسیلرو میٹر ایک چِپ پر نصب کی گئی مشین ہے جسے سائنسی اصطلاح میں مائیکر الیکٹرو مکینیکل سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ مشین کسی بھی چیز کے اسراع (acceleration) اور کششِ ثقل کا ذمین کے ساکن میدانِ ثقل سے موازنہ کرکے رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھانپ سکتی ہے۔ کششِ ثقل کی وجہ سے ساکن اسراع جانچنے کے بعد چِپ کو پتہ لگ جاتا ہے کہ چیز کو زمین کے لحاظ سے کس زاویے پر ہلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح حرکاتی اسراع کی مدد سے چیز کی حرکت کی سمت کا تعین بھی ہو جاتا ہے۔
ایکسیلرومیٹر عام طور پر گاڑیوں کے ائیر بیگ میں عین اس وقت پھولنے کی صلاحیت کے لیے استعمال ہوتے ہیں جب حادثے میں گاڑی کو شدید جھٹکا لگے۔ اس طرح یہ مشین نِنٹینڈو وائی گیم اور ایپل کمپنی کے لیپ ٹاپ کو گرنے کی صورت میں شدید نقصان سے بچانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ’بی ٹی بیلنس سسٹم‘ میں ایکسیلرومیٹر کا کمپیوٹر کو کمانڈ دینے کے لیے استعمال اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے اور ایکسیلرومیٹر سے ملنے والی ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متعلقہ سافٹ وئیر بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ بی ٹی کے ایک محقق کا کہنا ہے کہ ’کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں تمام تر جدت کے باوجود ضعیف لوگ اس کے استعمال سے گھبراتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ معذوری کی وجہ سے اپنے دونوں ہاتھوں کو استعمال نہیں کر سکتے ان کے لیے بھی ’کی بورڈ‘ اور ’ماؤس‘ کا استعمال مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں بی ٹی بیلنس کے حرکت پر کام کرنے کی صلاحیت بے حد مفید ثابت ہو سکتی ہے‘۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ تجرباتی طور پر تیار کیا گیا بی ٹی بیلنس سسٹم کے نمونے پر کتاب پڑھی جا سکتی ہے، لیپ ٹاپ کے زاویے کے مطابق سکرین پر تصویر کا رخ بدلا جا سکتا ہے اور یہ نمونہ دائیں اور بائیں سمتوں کو بھانپ سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں وائرلیس سے نیٹ کا استعمال زیادہ26 February, 2007 | نیٹ سائنس مِشن 2007: ایک لیپ ٹاپ فی بچہ03 January, 2007 | نیٹ سائنس ڈل کمپیور: بیٹریاں ٹھیک نہیں؟17 August, 2006 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||