یورپ:انسانی وجود کے قدیم سراغ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس میں محکمہ آثار قدیمہ کو بعض ایسے سراغ ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں انسان کا وجود زمانہ قدیم سے پا یا جاتا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے بعض ایسے نوادرات پیش کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پینتالیس ہزار برس قبل انسان نے یوروپ کی طرف ہجرت کی ہوگی۔ یہ نوادرات کوسٹینکی کے مقام سے دریافت ہوئے ہیں۔ ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اوائل میں یورپ کی طرف سفر کرنے والوں نے موجودہ راستوں کے بجائے کسی متبادل راستے کو اپنایا ہو۔اس نئی دریافت کو سائنس میگزین میں تفصیل سے شائع کیا گیا ہے۔ کلورڈو یونیورسٹی کے تحقیقات کار جان ہافیکر نے لکھا ہے’ اب تک جو آثار ملے ہیں ان سے لگتا ہے کہ جنوبی یورپ کے بلغاریہ اور روم جیسے ممالک میں بہت پہلے سے انسان موجود تھے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 44 ہزار برس قبل بحیرہ روم کو پار کرکے لوگ وہاں پہنچے ہوں گے۔‘ ماہرین نے دریائے ڈان سے متصل ایک قدیم آتش فشاں پہاڑ کی راکھ کے نیچے سے زیورات اور ہاتھی دانت سے تیار کی گئی جو اشیاء بر آمد کی ہیں وہ جدید دور کے انسانوں کی ہیں۔ پروفیسر ہافیکر کا کہنا ہے کہ یہ نوادرات اس سے قبل یورپ میں پائی گئی اشیاء سے کافی مختلف ہیں۔
تاریخ کے ریکارڈز اور موجودہ نوادرات سے پتہ چلتا ہے کہ جدید انسان کا وجود دو لاکھ برس قبل سب سے پہلےافریقہ کے سہار ا علاقے میں پاگیا تھا اور ان کی ہجرت کا سلسلہ ساٹھ یا پچاس ہزار برس پہلے شروع ہوا تھا۔ جدید انسان کے وجود کا ثبوت پچاس ہزار برس قبل سب سے پہلے آسٹریلیا میں پاگیا تھا۔ پروفیسر ہافیکر کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ کوسٹینکی میں پائے گئے انسان کس خطے سے آئے ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دریافت اس لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سے یورپ میں انسانی آبادی اور اس کی تاریخ کے متعلق نئے نئے انکشافات کا امکان ہے۔ | اسی بارے میں انسان اور چمپنزی کا رشتہ پرانا19 May, 2006 | نیٹ سائنس انسانی حقوق سے متعلق نیا سرچ انجن01 December, 2006 | نیٹ سائنس ایٹا تنظیم کی تاریخ12 March, 2004 | نیٹ سائنس چارلس ڈارون کا تمام کام آن لائن19 October, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||