انسان اور چمپنزی کا رشتہ پرانا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق انسان اور چمپنزیوں کی نسل جدا ہونے کا عمل پہلے کے نظریات کے برعکس اتنی پرانی بات نہیں ہے۔ چمپنزی اور انسانوں کے ڈی این اے کے حالیہ تجزیے سے اشارہ ملتا ہے کہ نسل جدا ہونے کا عمل ساڑھے پانچ ملین سال سے کم ہے۔ یہ تحقیق سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کرنے والی ہارورڈ میڈیکل سکول اور ہارورڈ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انسانوں کی ابتدائی شکل اور اب موجودہ چمپنزیوں کے درمیان باہم تولیدی عمل اربوں کھربوں سال تک جاری رہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے ارتقائے انسانی ایک پیچیدہ ترین عمل تھا۔ ان کے مطابق ابھی اس نظریے کو ثابت تو نہیں کیا جاسکا ہے لیکن وہ اس کی وضاحت کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انسانوں اور چمپنزیوں کی نسل علیحدہ ہونے کا عمل نہاحی آہستہ آہستہ صدیوں تک جاری رہا ہے۔ انسانوں اور چمپنزیوں کے ڈی این اے کی ترتیب میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔ ابھی تک ارتقائے انسانی کا وہ وقت تو معلوم نہیں کیا جاسکا ہے جب دو نسلوں نے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوکر الگ الگ طرز کی زندگیاں شروع کیں تاہم سائنسدان کہتے ہیں کہ ایسا کرنا ممکن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اب تک انسانی ارتقاء پر کی گئی تحقیق کو ایک قدم آگے لے گئے ہیں۔ امریکی تحقیق کے مطابق انسان اور چمپنزی کی نسلیں الگ ہونے کا عمل ساڑھے پانچ ملین سال سے کم اور چھ ملین سال سے زیادہ پرانا نہیں ہے یعنی یہ عمل ساڑھے اب سے پانچ ملین سال سے چھ ملین سال پہلے ہوا ہے۔ اس سے پہلے کی گئی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ یہ عمل ساڑھے سات ملین سال سے بھی پہلے ہوا ہے تاہم اب نئی تحقیق اس اعداد و شمار کی نفی کرتی ہے۔ | اسی بارے میں گوریلوں میں اوزار کااستعمال 02 October, 2005 | نیٹ سائنس قطب شمالی کی برف میں کمی29 September, 2005 | نیٹ سائنس وھیل شارک کی زندگی کے راز25 September, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||