چارلس ڈارون کا تمام کام آن لائن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاریخ انسانی کے ایک عظیم ترین سائنسدان چارلس ڈارون کی تمام تحریریں آن لائن شائع کر دی گئی ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے اس منصوبے کے تحت ڈارون کے پچاس ہزار صفحات پر مشتمل تحریریں اور چالیس ہزار تصاویر اب ان تمام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی ہیں جو انہیں پڑھنے یا دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے وہ تمام لوگ جو ایم پی تھری کی سہولت بھی رکھتے ہیں اس سلسلے میں صوتی فائلیں بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس منصوبے کا اولین مقصد دنیا بھر کے ان سائنسدانوں کو ڈارون اور ان کے ماخذوں تک رسائی آسان بنانا ہے جو ارتقاء کے بارے میں ڈارون کے تصور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کام ارتقاء سے عام دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی خاصی دلچسپی کا حامل ہو گا۔ اس سلسلے میں پروجیکٹ کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر جان ون وائن کا کہنا ہے کہ ’اس منصوبے میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ ڈارون کے اہم ترین کام تک لوگوں کی رسائی کو زیادہ سے زیادہ آسان بنایا جائے‘۔
ڈاکٹر وائن گزشتہ چار سال سے اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور انہوں نے دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ڈارون کی خود اپنی تحریروں یا ان پر کیے گئے کام کی نقول حاصل کی ہیں۔ مورخین کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ایسی ویب سائٹ بنانے کا خیال اس وقت آیا جب وہ خود اس موضوع پر ایک ایشیائی یونیورسٹی میں کام کر رہے تھے اور انہیں اس سلسلے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ |
اسی بارے میں نظریہِ حیاتیات یا مذہب کی تعلیم21 December, 2005 | Debate ’ڈارون کا نظریۂ ارتقاء ابھی زندہ ہے‘09 September, 2004 | نیٹ سائنس ’بیگل‘ کا پتہ چل گیا27 February, 2004 | نیٹ سائنس ڈارون کے پرندوں کو خطرہ10.11.2002 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||