امریکہ میں ایک عدالت نے سکولوں میں ڈارون کی تھیوری کے ساتھ ’انٹیلی جنٹ ڈیزائن‘ نامی نظریہ پڑھائے جانے کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ بورڈ کے حکام چاہتے تھے کہ بچوں کو ڈارون کی تھیوری کے ساتھ یہ نظریہ بھی پڑھایا جائے کہ زمین پر زندگی کا ارتقاء اتنا پیچیدہ تھا کہ وہ بذات خود وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ عدالت کے جج نے حکم جاری کیا ہے کہ بورڈ نے پبلک سکول میں مذہبی تعلیمات دینے کی آئینی پابندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ آپ کا عدالت کے اس فیصلے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ’انٹیلیجنٹ ڈیزائن‘ کی تھیوری سکول میں پڑھائی جانی چاہئے؟ کیا سکولوں میں ارتقاء کے متعلق ڈارون کی تھیوری کے علاوہ متبادل تعلیم بھی شامل کی جانی چاہئے؟ اگر ارتقاء کے متعلق مذہبی نقطہِ نظر درسی کتب کا حصہ ہو تو کیا کسی ایک مذہبی نقطہِ نظر کو اس میں شامل کیا جائے یا تمام مذاہب کا نقطہِ نظر شامل ہو؟ آپ کی رائے
یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آرا نیچے درج ہیں۔
طلحہ احمد، یو اے ای: میرے خیال میں ڈارون ایک یہودی تھا، اس کی تھیوری نہیں پڑھانی چاہیے۔ اسلام ایک سچا دین ہے۔ اگر کسی کو سائینس پڑھنا ہے تو قرآن کو تفسیر کے ساتھ پڑھ لے سب کچھ مل جائے گا کیونکہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں سب کچھ مل جائے گا۔ نامعلوم: یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ زیادہ تر لوگ اس فورم پر ارتقا کی تھیوری کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ کیا کسی نے اس تھیوری کو بغیر تعصب کے پڑھا ہے؟ جو بھی سکولوں میں پڑھایا جائے اس کا سائینٹفک ثبوت ہونا چاہیے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو ہمارے ذہنوں میں بچپن میں ڈالا گیا تھا وہ درست نہ ہو۔ اس وقت ہمیں اپنے ذہن کھول کر حقیقت سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسد ملک، فنلینڈ: ڈارون کی تھیوری اسلام کے منافی ہے، پاکستان میں ہر گز نہیں پڑھانی چاہیے۔ پاکستان میں گنی چنی دس سورتیں پہلی جماعت سے لے کر دسویں تک بار بار پڑھائی جاتی ہیں۔ مگر سمجھتا کوئی نہیں ان کو بھی، اس لیے پہلی پانچ سال عربی کو اور دوسرے پانچ سال قرآن کی تفسیر کو لازمی کیا جائے۔ سہیل احمد، یو کے: میرے خیال میں ڈارون کی تھیوری کے ساتھ کوئی اور تھیوری بھی پڑھانی چاہیے۔ اس سے بچوں کا ذہن کھلے گا وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکیں ہیں۔ ثنااللہ، کویت: اللہ کی بتائی ہوئی سچی بات کو جھٹلانے کے سب بہانے ہیں۔ جس نے یہ سب کائنات بنائی اور آج سے ہزاروں برس پہلے اپنی کتاب قرآن پاک میں فرما دیا جب نہ تو ڈارون تھا، نہ کوئی تھیوری اور نہ ہی کوئی ٹیکنولوجی۔ عمران شہزادی، لاہور، پاکستان: ڈارون کا نظریہ سو فیصد حقیقت پر مبنی نہیں اور پھر بہت سے ماہرین اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بچوں کے ذہن ناپختہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایسی تھیوری جو کہ سو فیصد درست نہ ہو بچے پڑھ کر ابہام کا شکارہو جائیں گے۔ ہنا ساجد، کینیڈا: میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ ہماری نئی نسل زندگی کی ہر تھیوری کو جانے۔ جاوید چوھدری، سویڈن: انٹیجیلنٹ ڈیزائین کی تھیوری سکول میں ضرور پڑھانی چاہیے۔ اللہ نے یہ کائنات یہ زہین کچھ اصولوں پر تخلیق کی ہے۔ یہ تھیوری انہی اصولوں پر مشتمل ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ تھیوری مذہب اور سائینس کو قریب لے کر آئے گی۔ قرآن شریف میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کائنات کے ان رازوں کو سمجھے اور اللہ تعالیٰ کے علم کی تعریف کے۔ جیسا کہ قرآن میں آیت ہے کہ اگر سارے سمندر سیاہی بن جاییں اور سارے پر قلم، جتنا چاہو لکھو مگر اللہ کے علم کو پوری طرح جاننا مشکل ہے۔ میرے خیال میں انٹیلیجنٹ ڈیزائین کو پڑھانا عبادت ہے۔ احمد خان، کراچی، پاکستان: اگر کوئی شخص اس دنیا کے آغاز کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو قرآن پڑھے۔ اس کے بعیر کوئی اس دنیا کو نہیں سمجھ سکتا اور کوئی دوسرا مذہب اس کے بارے میں نہیں بتاتا۔ شاکر طارق، کشمیر، پاکستان: ڈارون کا نظریہ بلکل درست نہیں اس لیے اسلامی نظریہ بھی پڑھنا چاہیے۔ اس لیے نہیں کہ میں مسلمان ہوں بلکہ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ ہماری ساری کی ساری ریسرچ انسان کو نہیں بچا سکی اور وہ آخر کار مر جاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ انسان جب تک اس حقیقت کو نہیں مان لیتا وہ ادھر ادھر کی مارتا رہے گا۔ اسلام نے جو طریقہ دیا ہے اس کو مان کر نا صرف ہم مختلف بیماریوں سے محفوظ رہیں گے بلکہ اس طرح کے سوالوں کے جوابات بھی آسانی سے مل سکیں گے۔دونوں نظریے پڑھنے ہی سے انسان سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکتا ہے۔ ضیا الرحیم، پشاور، پاکستان: یہ ایک حقیقت ہے اور بہت سے مغربی سائینسدانوں نے اس کو ثابت کر دیا ہی کہ ڈارون کی تھیوری مکمل طور پر غلط ہے، لیکن پھر بھی وہ سکولوں میں پڑھا رہے ہیں۔ اگر ڈارون صحیح تھا تو یہ عمل کیوں رک گیا اور باقی بندر کب انسان بنیں گی اور کسی دوسری انٹیلیجنٹ قسم میں تبدیل ہوں گے۔ اگر کسی چیونٹی کا فوضل ملتا ہے تو ڈارون کہتا ہے کہ یہ دس ملین سال پرانا ہے لیکن اس کی ظاہری حالت میں کوئی فرق نہیں۔ ڈارون کو ماننے والے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ سے دور رکھا جائے۔ ریاض فاروقی، دوبئی، یو اے ای: یہ چیزیں تو پڑھانی چاہیں کہ زندگی کے ارتقا کے بارے میں سائینس کیا کہتی ہے اور مذہب کیا کہتے ہیں۔ محمد فواد، لاہور، پاکستان: ڈارون کی تھیوری ایک تھیوری ہے اور حقیقت نہیں ہے، اس کو کیوں پڑھانا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے اور سب لوگوں کو پتا ہے کہ اللہ اس دنیا کا خالق ہے اور قائم رکھنے والا ہے، اس کو پڑھانا چاہیے بجائے اس کے کہ خام تھیوری پڑھائی جائے۔ راجہ عمران، کشمیر، پاکستان: میرے خیال میں یہ بیالوجیکل ہے اور یہ حقیقت ہے۔ محمد صابر راجہ، اسلام آباد، پاکستان: میرے خیال میں سائینس پرانی تاریخ سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اب ہر چیز ریاضی کے صحیح اصولوں کے مطابق پڑھی جاتی ہے۔ اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک طاقت ہے جس نے یہ سارا سسٹم تشکیل دیا ہے اور یہ دنیا چلا رہی ہے۔ لہذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ انسانی جسم جو اس دنیا سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے اور یہ مکینکس جو انسان نے بنائے ہیں ڈارون کی تھیوری کے مطابق خود ہی بن گئے۔ امتیاز احمد ملک، ملتان، پاکستان: مذہب کوئی شو پیس میں رکھنے والی چیز نہیں ہے، جس کو صرف سجا کر دیکھتے رہیں بلکہ یہ ایک آفاقی لائح عمل ہے۔ انسان اللہ کی تخلیق ہے اور اسی تخلیق کو درست سمت اختیار کرنے کے لیے آفاقی اصول بھی آسمانی قطب اور صحیفوں میں بیان فرما دیے ہیں۔ جبریل العنصر، لاہور، پاکستان: دنیا کے تمام مذاہب کی یہ روایہ رہا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے علاوہ تمام آراء کو رد کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ ا س طرح دیکھا جائے تو ڈارون کی تھیوری اور نظریہ ایک مزہب کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ جس کو ماننے والے اس کی تمام کمزوریوں اور پچیدگیوں کے باوجود ہر دوسری رائے یا نظریے کو رد کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سچ کی تلاش میں انسان کو ہر نظریے یا مفروضے پر تحقیق کرنا چاہیے چاہے وہ مذہب ہی کیوں نہ ہو۔ سیما صدیقی، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں تو ہمیں اس معاملے ہیں بحث ہی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہمارا عقیدہ اس نظریے سے متصادم ہے۔ ہر چیز چاہے انسان ہی کیوں نہ ہو اللہ کی موجودگی کی گواہی دے رہی ہے اور واحدت الشہود پر ہمارا ایمان ہے۔ طارق عباسی، پاکستان: تمام مزہبوں کے نظریات شامل کیے جاییں۔ عارف حسین، گلگت، پاکستان: میرے نذدیک سکولوں میں طلباء اور طالبات کو اس طرح علم دیا جائے کہ ان کے پاس مختلف نظریات ہوں وہ خود ان پر غور کر کے صحیح اور غلط کا اندازہ لگا سکیں۔ یہ صحیح معنوں میں تخلیقیت ہے۔ ورنہ ایک ہی چیز ان کو رٹا لگانے کے لیے کہا جائے تو اس سے تعلیم کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ محمد شاہد، مظفرگڑھ: میرے خیال میں جج نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔ شہاب نقوی، کینیڈا: ارتقا کی تھیوری سائینس مسترد کر چکی ہے اور گزشتہ صدی میں اس سے بہت زیادہ خون خرابا ہوا ہے۔ اگر اس پرپڑھنا چاہتے ہیں توہارون یحیٰ کو پڑھیں۔ محمد عثمان خان، سعودی عرب: ڈارون کی تھیوری بڑے بڑے سکالرز نے منسوخ کر دی ہے اور اسے غلط قرار دیا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم جانتے ہیں کہ انسان کی تحلیق اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔ رہا یہ سوال کہ اس تھیوری کو سکول میں پڑھایا جانا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ طالبات کو یہ بھی بتا دینا چاہیے کہ یہ ایک تھیوری ہے فیکٹ نہیں اور تا ریخ نے ثابت کیا ہے کہ بہت سی تھیورز نے یو ٹرن لیا ہے۔  | اسلامی سکالر کیا کہتے ہیں  سائنس کی رائے میں انسان بندر کی ترقی یافتہ شکل ہے اور اس سلسلے میں سائینسدان ’فوزل‘ رکارڈ پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ قرآن کی تابیر سے مختلف ہے کیونکہ اس میں بندر سے انسان بنانے کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ ذہین ظاہر کا نظریہ اسلام سے قریب تر ہے اور مسلم طالبات کے لیے فکر اور دریافت کی راہیں متعین کرنے ہیں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نظریے کا مشہور ترک اسلامی سکالر ہارون یحیٰ نے بھی اپنی کتابوں میں حوالہ دیا ہے۔  محمد وقاص، آسٹریلیا |
محمد وقاص، آسٹریلیا: سائنس کی رائے میں انسان بندر کی ترقی یافتہ شکل ہے اور اس سلسلے میں سائینسدان ’فوزل‘ رکارڈ پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ قرآن کی تابیر سے مختلف ہے کیونکہ اس میں بندر سے انسان بنانے کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ ذہین ظاہر کا نظریہ اسلام سے قریب تر ہے اور مسلم طالبات کے لیے فکر اور دریافت کی راہیں متعین کرنے ہیں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نظریے کا مشہور ترک اسلامی سکالر ہارون یحیٰ نے بھی اپنی کتابوں میں حوالہ دیا ہے۔ اسد محمد خان، پاکستان: قرآن کے مطابق کائنات کا وجود حضرت میکال کی طرف سے سور پھونکنے کی وجہ سے ہوا ہے اور سائینس بہی آج اسی کو ثابت کرتی ہے جیسا کہ شیلڈن اور شان کی تھیوری میں تھا کہ دنیا ایک بہت بڑے بگ بینگ کے بعد بنی ہے اور ختم بھی اسی بگ بینگ سے ہو گی۔ یاد رہے کہ حضرت میکال کے سور پھوکنے کی بعد ہی دنیا فناہ ہو گی اور قیامت آ جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ سائینس مزہب سے پار کچھ نہیں کر سکتی۔ لہذا مزہب کی سائینسی تعلیم کو دینا چاہیے لیکن تمام مزاہب کا نظریہ ساتھ ہو تو قابل فہم لوگوں کو سچ اور جھوٹ اور سیرت مستقیم کا پتا چلنے میں بھی آسانی ہو گی۔ داؤد دانش، پاکستان: اگر یہ تعلیم تمام بچوں کے لیے مفید ہو تو ضرور پڑھائیں بصورت دیگر اس کا پڑھنا ناجائز ہے۔ عمر رامے، لاہور، پاکستان: ڈارون کی تھیوری مولانا رومی کے ایک ربائی سے متا ثر ہو کر پیش کی گئی۔ مولانا نے روحانیت میں انسانوں کے درجوں کو اس طرح بیان کیا ’انسان ایک پتھر تھا پھر پودا بن گیا، پھر مختلف جانوروں کی قسموں سے ہوتا ہوا انسان بن گیا۔‘ مولانا نے یہ روحانیت کے درجات بیان کرتے ہوئے کہا تھا جبکہ ڈارون دوسری جانب چلا گیا۔ ڈارون کی تھیوری کا کوئی سائینٹفک ثبوت نہیں ہے۔ محمد مسعود الیاس، اسلام آباد، پاکستان: اگلی نسل کی سوچ کو وسیع کرنے کے لیے جو بھی تھیوری آئے اس کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔ جدید سائنس سے مزہب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ منیر حسین، دوبئی، یو اے ای: یہ تھیوریز نہیں پڑھانی چاہیں کیونکہ ان سے انسان کا ذہن متاثر ہوتا ہے اور وہ ایک خالق کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ تھیوری تو کب کی ختم ہو چکی لیکن اس کے ماننے والے اسے پھر زندہ کر دیتے ہیں اور لوگوں کو مسئلہ ہوتا ہے۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: بی بی سی کو کیا ایسے عنوان منتخب کرنے چاہیں جس میں کوئی انسانی بھلائی کا پہلو نکلتا ہو یا جس میں سوسائیٹی کی فلاح کا پہلو اوجاگر ہوتا ہو۔ ان جیسے عنوانات سے بی بی سی کیا لینا چاہتی ہے۔ عبدالسلام خلیفہ، یو اے ای: جس طرح ’انٹیلیجنٹ ڈیزائن‘ غیر یقینی ہے اسی طرح اصل تھیوری بھی تو صرف ایک مفروضہ ہی ہے اور پھر اس کا ’بروکن لنک‘ بھی ایک مسئلہ ہے۔ جب اس مفروضے کو سکول میں پڑھایا جاتا ہے تو مذہبی تعلیم میں کیا حرج ہے؟ میرا خیال ہے کہ سکول میں تین نظریات کو بطور نظریہ کے پڑطانا چاہئے۔ ڈارون کا نظریہ، سامی مذاہب کا نظریہ اور غیر سامی مذاہب کا نظریہ اور ان کی حمایت اور مخالفت میں جتنے معلوم سائینٹیفک حقائق ہیں، وہ بھی پڑھائے جانے چاہئیں۔ سجاد احمد، کینیڈا: جی ہاں، انٹیجنٹ ڈیزائن کی تھیوری کو مذہب کی طرف جھکاؤ کے بغیر پڑھایا جانا چاہئے۔ علی عمران شاہین، لاہور: پتہ نہیں بی بی سی کو یہ بحث شروع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ایک ایسا مسئلہ جو تمام مذاہب کے لوگوں کے لئے متنازع بلکہ تکلیف دہ ہو، اسے چھیڑنا مناسب نہیں۔ میرے خیال میں یہ مسئلہ ہی نان ایشو ہے۔ جہانگیر، نیدر لینڈ: میری نظر میں ارتقاء کی صرف دو تھیوریز ہیں، ایک ڈارون کی اور دوسرے تمام مذاہب کی کہ کائنات اور زندگی کو کسی ارفع قوت نے تخلیق کیا ہے۔ اس لئے یہ دونوں پڑھائی جانی چاہئیں۔ طاہر، اسلام اباد: پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈارون بذاتِ خود نظریہِ ارتقاء پیش کرنے کے باوجود خدا کے وجود کا قائل تھا اور صرف ملحدین اسے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ انٹیلیجنٹ ڈیزائن اور ارتقاء دونوں متنازع ہیں۔ ضروری نہیں کہ انہیں مذہبی یا غیر مذہبی بنیادوں پر پڑھایا جائے بلکہ ان دونوں کو ساینسی بنیادوں پر پڑھایا جا سکتا ہے کہ کیا انسان قدرتی عوامل کے نتیجے میں پیدا ہوا یا کسی کی پلاننگ کے تحت؟ اس دور میں ملحدین کے کئی فرقے بھی اس کے قائل ہیں کہ انسان ایک انٹیلیجنٹ ڈیزائن ہے مگر وہ اس کا خالق کسی خدا کو نہیں مانتے۔ حوالے کے لئے دیکھئے: www.real.org آصف محمود میاں، لاہور: تعلیم یا علم کے لئے کوئی تھیوری بھی حرفِ آخر نہیں۔ ڈارون کی تھیوری بھی بالآخر تھیوری ہے جبکہ نظامِ ربوبیت زیادہ مضبوط نظام ہے۔ میرے خیال میں خدا کا نظام تمام تر مذاہب کے واسطے ہے اس لئے ایسی تعلیم دی جایے جو سب کے واسطے ہو اور تمام تھیوریز پڑھائی جائیں۔ |