پشاور میں منعقد پانچویں فقہی کانفرنس نے انسانی کلوننگ اور انسانی عضاء کی فروخت غیرشرعی قرار دے دی ہے۔ کانفرنس کا مقصد سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیش نظر معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں مذہبی نکتہ نظر معلوم کرنا تھا۔ کیا آپ کے خیال میں فقہی کانفرنس اس طرح کی بحث اور فیصلوں کے لیے مناسب فورم کیا ہے؟ کیا کلوننگ اور سائنس کے دوسرے شعبوں میں پیش رفت کے پیش نظر فقہ کی نئی تشریح ضروری ہے؟ ان موضوعات پر فیصلوں کے لیے سائنسدانوں یا متعلقہ شعبوں کےماہرین کی رائے ضروری ہے یا نہیں؟ اپنی رائے لکھ بھیجیے۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
خدیجہ سراج، کراچی: جب آبادی کو کم کرنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر کروڑوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں تو پھر آبادی بڑھانے کی منصوبہ بندی کیا معنی رکھتی ہے۔ اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ اس کے ذریعے مادر پدر آزاد معاشرہ وجود میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کلوننگ پر بحث کی کم از کم پاکستان میں تو ضرورت ہرگز نہیں ہے کیونکہ آزادی زیادہ ہونے بخار ویسے بھی صرف مغرب کو ہی ہے۔ ندیم اکرم، سویڈن: جب علماء کو یہ ہی نہیں معلوم کے کائنات میں کتنے عناصر ہیں تو وہ کلوننگ پر کیا بات چیت کریں گے۔ وہ انتقالِ حون کو ہی قبول کرنے پر تیار نہیں جس سے لاکھوں لوگوں کی جان بچتی ہے، وہ انجیکشنز کو نہیں مانتے، وہ انسانی جسم اور جنسی صحت پر تحقیق کو مانے کو تیار نہیں، وہ یہی ماننے کو تیار نہیں کہ جب نر اور مادہ بیضہ ملتا ہے تو ایک بچہ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے تو وہ اور کیا چیز مانیں گے۔ کیا مائیکروسکوپ علماء نے بنایا تھا تاکہ ہم انسانی سیل دیکھ سکیں؟ کیا انہوں نے پچھلے ہزار سال میں کوئی تحقیق کی ہے؟ جب وہ اس موضوع کی الف بے سے آگاہ نہیں تو کلوننگ پر انہوں نے بحث کیسے شروع کردی؟ دراصل وہ وقت کی دوڑ میں بہت ہی پیچھے رہ گئے ایک اور اس طرح کے بہانے ڈھونڈھ کر نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سلمیٰ بلال، نوشہرہ: جب بھی کبھی انسان نے اللہ کے بنائے ہوئے نظام میں دخل دیا وہ تباہ و برباد ہوا۔ انسان اپنے لیے مسلسل تباہی کے راستے ڈھونڈھ رہا ہے جس کی ایک مثال کلوننگ ہے۔  | صرف ایک خبر  صرف ایک خبر پڑھ کر اس کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ نہ تو ہم عالم ہیں نہ ہی ڈاکٹر، جب تک آپ ان کی پوری بحث کے بارے میں نہ بتائیں، ہم کیسے آراء دے سکتے ہیں۔  نذرالحق شیخ، ریاض |
نذرالحق شیخ، ریاض: کلوننگ جائز ہے یا ناجائز، حلال ہے یا حرام، انسان کے لیے ضروری ہے یا غیرضروری، آپ کی صرف ایک خبر پڑھ کر اس کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ نہ تو ہم عالم ہیں نہ ہی ڈاکٹر، جب تک آپ ان کی پوری بحث کے بارے میں نہ بتائیں، ہم کیسے آراء دے سکتے ہیں۔ جب تک ماہرین اور علماء مل کر نہ بیٹھیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ اسرار اختر، کراچی: کلوننگ کے لیے اس کے بارے میں معلومات ضروری ہیں جو کہ صرف علم سے ہی حاصل کی جا سکتی ہیں اور کم از کم اس کی ترغیب تو اسلام نے دی ہی ہے۔ جبین شہناز خان، امریکہ: قرآن و سنت کے علم بردار تو آج تک عید کے چاند کا مسئلہ نہیں حل کر سکے، یہ کلوننگ کو کب مانیں اور سمجھیں گے؟ یہ تو سولہ سال کی لڑکی سے بھی خوف کھاتے ہیں۔ قاری حنیف اللہ، سوات: روشن خیالی اپنی جگہ لیکن رشتوں کا کیا ہوگا؟ اور ماہرین نے تو دلیل کے ساتھ مسئلہ واضح کیا کہ یہ ناجائز ہے لہٰذا ایک مسلمان کے لیے اس کا ماننا لازمی ہے۔ عاشی، لاہور: مولوی حضرات کو فتویٰ دینے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ ایک محفل جمائی، چائے کا دور چلا اور فتویٰ دے دیا۔ یاسر، میرپور: اگر کلوننگ اللہ کے معاملات میں مداخلت کے برابر ہے تو انتقالِ خون کی اجازت کیوں ہو؟ میرے خیال میں علماء کو ماہرین اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ دینے کا حق ہے۔ رخسانہ قصرقند، کراچی: اس کے فوائد کے بارے میں معلومات دینی چاہیے، پھر ہی فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اصغر خان، برلن: میرے خیال میں یہ سائنس کا ایک کرشمہ ہے اور اس عمل کو صرف اعضاء کی کلوننگ تک ہی رکھنا چاہیے جو انسانیت کے لیے مفید کام ہے۔ ہمیں آگے کی طرف سوچنا چاہیے، نہ کہ پیچھے کی طرف۔ سید ذوالفقار احمد کاظمی حیدری، پاکستان: میرے خیال میں اسلام اور سائنس ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ شاہد بٹ، پاکستان: فقہی کانفرنس میں ایسی مشکلات پر ضرور بحث ہو نی چاہئے تا کہ اسلام کو درپیش چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔ فقہ کے نئی تشریح زمانے کے لحاظ سے بہت ضروری ہےاور اس میں صرف علما کو ہی نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کو ان مشکلات کا فیصلہ اسلام کی صحیح تشریح کے ساتھ کرنا چاہئے۔  | باوا آدم ہی نرالا  ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ چاند دیکھنا ماہرِ فلکیات کا کام ہے، کرتے مولوی ہیں جو اج تک نہیں مانتے کہ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے۔  کنول زہرا، لاہور |
کنول زہرا، لاہور: جب علماء کو کلوننگ کی الف بے تک نہیں معلوم تو اس پر کیسے رائے دینے بیٹھ گئے۔ ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ چاند دیکھنا ماہرِ فلکیات کا کام ہے، کرتے مولوی ہیں جو اج تک نہیں مانتے کہ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے۔ کل تک لاؤڈ سپیکر غیر شرعی اور غیر اسلامی تھا آج اسی سے سب کو تنگ کرتے ہیں۔ براہِ مہربانی اس پر رائے سائنس دانوں سے لیجیے۔محمد فدا، کینیڈا: وقت نے بہت سارے مذاہب اور خیالات کو بدلا ہے اور مجھے ڈر ہے کہیں اسلام بھی ماضی نہ بن جائے۔ ملک اقبال جاوید، پاکستان: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ غیر شرعی ہے اور پھر یہ سب مغرب کی کارستانیاں ہیں اور جب اللہ کا عذاب نازل ہو گا تو پھر ان کو معلوم ہو گا۔ ثناء خان، پاکستان: جب کسی مولوی نے کلوننگ کروانی ہو گی تب یہ جائز اور شرعی ہو گی۔ عبدالحق، امریکہ: یہ بھی شرعی ہو جائے گی جب تک مولویوں کو کھانے پینے کا کوئی مناسب راستہ نہیں مل جاتا۔ اپنی زندگی کے فیصلے ہم مولوی سے کیوں پوچھتے ہیں؟ عبدالصمد، ناروے: فقہی کانفرنس سائنسی اور علمی بحث کے لئے موزوں نہیں ہے۔ فقہ کی نئی تشریح ہونی چاہیے بشرطیکہ روشن خیال علما اور طبی ماہرین اس فورم میں شامل ہوں۔ عبدالرحمان، پاکستان: اسلام جبکہ ایک مکمل دین ہے، لہٰذا اس حوالے سے بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس قسم کی کانفرنس کو مذہبی فرقوں کی ضرورت یا مجبوری ہی کہا جا سکتا ہے۔ حلال و حرام، جائز و ناجائز کا اختیار کسی انسان کو نہیں۔ حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے۔ عاطف مرزا: مولوی اب سائنس کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے۔ خدا کا نام ہے مولوی حضرات سے جان چھڑوا لیں ورنہ یہ ساری مسلمان قوم کا نام تباہ کر کے ہی دم لیں گے۔ کلوننگ سائنٹسٹ کا فیلڈ ہے اس کا فیصلہ بھی انہی پر چھوڑ دیں جن کو پتا ہے کہ وہ کیا بات کی رہے ہیں۔ آفتاب اکرام، متحدہ عرب امارات: اگر علما کے حساب سے یہ ناجائز ہے تو ٹھیک ہے۔ ہمارے یہ اعضاء اللہ کی امانت ہیں، ہم اللہ کے امانت کو صرف پیسوں کے لئے نہیں بیچ سکتے۔ ساجد شاہ، برطانیہ: اس طرح کی کانفرنس وقت کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں اس طرح کھل کر بات کرنے سے ابہام ختم ہو جاتا ہے اور دین کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ان تمام علمائے کرام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کتنا خوبصورت اور جدید مذہب ہے۔ قرآن ہمیں فکر کی دعوت دیتا ہے۔ :احسان ذیدی، امریکہ: میرے خیال میں کلوننگ غیر شرعی ہے لیکن انسانی اعضاء کی کلوننگ کی اجازت ہونی چاہئے۔ ہمیں اپنے ماضی سے سیکھنا چاہئے اور سائنس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔ سائنس ہمیشہ جیتی ہے۔ تنویر خان، امریکہ: یہ واضح نہیں ہے کہ کانفرنس میں کلوننگ پر کچھ ماہرین بھی شامل تھے یا نہیں۔ ہمیشہ مذہبی رہنما زندگی کے ہر شعبے میں نئی ٹیکنالوجی کے خلاف بولتے آیے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کا فورم اس قسم کے نازک اور انتہائی تکنیکی موضوعات پر بات چیت کے لیے مناسب نہیں ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ہمارے مذہبی رہنما آزادانہ اور تعصب سے پاک سوچ سے محروم ہیں۔ امن خان، کینیڈا: پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ انسانیت کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ اچھے کو قبول کرنا ہی ہوگا۔ اپنے فیصلوں کا اختیار علماء حضرات کو مت دیجیے کہ وہ ہر مسئلے میں مذہب کو لے آتے ہیں۔ یوں تو ہم کبھی ترقی نہیں کرپائیں گے۔ یورپ بغیر مذہب سے نجات حاصل کیے کبھی ترقی نہیں کرپایا تھا۔  | بےشک انسان خسارے میں ہے  کلوننگ ہونی چاہیے کہ بہت سے دکھی اور بیماروں کو بچایا جا سکتا ہے مگر کیا انسان نے آج تک کوئی بھی قدم دھیمے دھیمے اٹھایا ہے؟  حسیب خان، کراچی |
حسیب خان، کراچی: ’بےشک انسان خسارے میں ہے‘ اور اسی لیے ہے کہ وہ دونوں اطراف سے باز نہیں آتا۔ نہ مذہب کی طرف سے اور نہ سائنس کی طرف سے۔ ایک طرف مولویوں کی انتہا پسندی ہے تو دوسری طرف سائنسدانوں کی۔ کلوننگ غیرفطری نہیں کہ دراصل خدا کی قدرت کی ہی مسلسل دریافت سے اسے دریافت کیا جارہا ہے مگر یہ نقصان دہ بن جائے گی کہ آج تک سائنس نے انسانیت کے لیے جو بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں، انہیں بعد میں پیسے بنانے کی مشین میں بدل دیا گیا ہے۔ کلوننگ ہونی چاہیے کہ بہت سے دکھی اور بیماروں کو بچایا جا سکتا ہے مگر کیا انسان نے آج تک کوئی بھی قدم دھیمے دھیمے اٹھایا ہے؟ اسی لیے تو ’بےشک انسان خسارے میں ہے۔‘عطاء القدوس طاہر، کینیڈا: انسان جب بھی خدا کی بنائی ہوئی تخلیق میں غیر فطری تجربات کرے گا تو نقصان اٹھائے گا۔ یہی اسلام ہے اور یہی سائنس۔ وہیب خواجہ، انڈیا: یہ درست نہیں ہے۔ قمر شیخ، لندن: دنیا چاند پر پہنچ چکی اور ہم نور اور بشر کے چکر سے باہر نہیں آ پارہے۔ ندیم ملک، پیرس: آخر انسانی کلوننگ کیوں کی جائے، صرف اعضاء کی فروخت کے لیے؟ یہ قتل کے مترادف ہے۔ محمد سلمان، کراچی: جب علماء نے کہہ دیا تو اب اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ احتیاطاً حکومت کو مختلف مکاتیب کے علماء کی کانفرنس بلانی چاہیے، پھر وہ جو فیصلہ کریں، ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیے۔ مولانا اسام الدین، پاکستان: ایسا کام کرنے سے انسان کی قدرومنزلت کو نقصان پہنچے گا۔ عفاف اظہر، ٹورنٹو: اگر ہم انسانیت کے ناطے ہی دیکھیں تو انسانی اعضاء کا فروخت ہونا ایک گھٹیا عمل ہے اور یہی بات کلوننگ کے بارے میں کہی جاسکتی ہے کہ اس سے انسان کی اپنی اہمیت ختم ہوتی ہے۔ اگر آپ جیسے دس اور افراد بنادیئے جائیں تو آپ کیسا محسوس کریں گے۔ تخلیق دینا خدا کا کام ہے اور انسان نہ کبھی وہاں تک پہنچا ہے، نہ پہنچ پائے گا۔ انسانیت اور مذہب دونوں لحاظ سے یہ نامناسب ہے۔ محمد عثمان الحق، لاہور: سائنس کی ترقی اپنی جگہ لیکن کلوننگ ٹھیک نہیں۔ فقہی کانفرنس ایک اچھا فورم ہے، اس کے فیصلوں کو ترجیح دینی چاہیے۔
 | انسان کی نقل یا بیماری کا توڑ  اگر کلوننگ سے مراد انسان کی نقل بنا ہے تو یہ غلط ہے لیکن اگر اس سے مراد بیماری کے خلاف جنگ ہے اور پیچیدہ بیماریوں کا توڑ ڈھونڈا جائے تو ا س میں کوئی حرج نہیں۔  عمران صدیقی، کراچی |
عمران صدیقی، کراچی: اگر کلوننگ سے مراد انسان کی نقل بنا ہے تو یہ غلط ہے لیکن اگر اس سے مراد بیماری کے خلاف جنگ ہے اور پیچیدہ بیماریوں کا توڑ ڈھونڈا جائے تو ا س میں کوئی حرج نہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس کے لیے ایک علماء اور سائنسدان حضرات میں مکالمہ کا انتظام کیا جائے۔ فیصل اشرف، برطانیہ: کلوننگ اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں مختلف سماجی اور مذہبی مسائل اٹھ کھڑے ہوں گے۔ جیسے دودھ شریک ماں کی وجہ سے بعد میں بچوں کے لیے کیی قسم کے مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن سے ہر مسلمان بخوبی آگاہ ہے۔ پھر یہ خدا کی تخلیق میں مداخلت کے مترادف بھی ہے۔ ہلال باری، لندن: میری بی بی سی کے پروڈیوسرز سے درخواست ہے کہ ایسے موضاعات پر رائے مت مانگا کریں جن کے بارے میں قرآن و سنت کا علم رکھنے والے علماء رائے دے چکے ہوں۔ یہ اسلام ہے، مذاق نہیں۔ شاہدہ اکرام، ابوظہبی: کچھ کام قدرت کو ہی کرنے دینا چاہئیں۔ حضرتِ انسان کے اپنے جیسے ڈھیروں ہمزاد جب اکٹھے ہوجائیں گے تو کیسا تماشا اٹھ کھڑا ہوگا۔ کیا ہم خدا کی قدرت کو جھٹلا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ اگر کلوننگ اچھے مقاصد کے لیے استعمال ہو تو اچھا ہے لیکن ایسا ہوگا نہیں۔ جہاں تک سائنسدانوں اور علما کا تعلق ہے تو وہ کبھی بھی ایک دوسرے کی بات نہیں مانیں گے۔ اس طرح کے موضوعات پر متعلقہ شعبوں کے ماہرین ہی رائے دے سکتے ہیں۔ |