’بیگل‘ کا پتہ چل گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چارلس ڈارون کے جہاز بیگل کے ملبے کا پتہ چلا لیا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ پریسکوٹ کی سربراہی میں یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز کی ٹیم نے ایسیکس کی دلدل میں ایچ ایم ایس بیگل کے ملبے کی نشاندہی کی ہے۔ اس علاقے کی مزید پڑتال کے لیئے اس ٹیکنالوجی کی مدد لینے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے جو مارس پر جانے والے بدقسمت جہاز بیگل کے لیئے تیار کی گئی تھی۔ ڈاکٹر کولن پلنجر نے مارس پر بھیجے جانے والے جہاز کا نام بیگل بھی تین سو سال پہلے گم ہونے والے چارلس ڈارون کے جہاز کے نام پر ہی رکھا تھا۔
ایچ ایم ایس بیگل کی کھوج کے لیئے جدید طرز کا ریڈار استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اس جہاز کی لکڑی اور دھات کا پتہ چلایا جا سکے جس میں بیٹھ کر چارلس ڈارون نے ارتقاء کا نظریہ پیش کیا تھا۔ جہاز کا ملبہ جزیرہ پوٹن کے قریب پانچ میٹر گہری دلدل میں دبا ہوا ہے۔ دنیا کا چکر لگانے کے بعد جہاز کو ساؤتھ اینڈ کوسٹ ڈسٹرکٹ میں سمگلنگ کی روک تھام کے لیئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر پلنجر اور ڈاکٹر پریسکوٹ نے 2000 میں بیگل شپ سرچ گروپ تشکیل دیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ 27 میٹر لمبی کشتی کا اپنے تاریخی سفر کے بعد کیا حشر ہوا۔ ڈاکٹر پلنجر نے بی بی سی کو بتایا کہ بیگل ٹو کے نیچے لگایا جانے والا آلہ ایچ ایم ایس بیگل کو ڈھونڈنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ اٹھارہ سو ستر میں بیگل کو 525 پاؤنڈ میں فروخت کر دیا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ خریدنے والے نے اس کا بنیادی ڈھانچہ کھول کر بیچ دیا تھا اور باقی حصہ پانی کے نیچے دب گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||