BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 December, 2003, 03:53 GMT 08:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کیا بیگل ٹو گڑھے میں اترگیا ہے؟‘
بییگل ٹو سے رابطے کے لیے ٹائیگر ٹیم کی تشکیل
بییگل ٹو سے رابطے کے لیے ٹائیگر ٹیم کی تشکیل

برطانیہ کی طرف سے مریخ پر خلائی مشن بیگل ٹو بھیجنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ اس بات کا خفیف سا امکان ہے کہ بیگل ٹو مریخ کی سطح پر کسی گڑھے میں اتر گیا ہو جس کے باعث اس سے رابطے کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔

ان ماہرین نے بتایا ہے کہ مریخ کی تازہ ترین تصویروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس جگہ بیگل ٹو نے اترنا تھا اس زون میں ایک کلو میٹر طویل گڑھا ہے جبکہ پورے زون کا فیصلہ ایک سو پچاس کلو میٹر ہے۔

’ہو سکتا ہے کہ گڑھے کی ڈھلوان والی دیواریں یا اس کے باہر نکلے ہوئے کناروں کی وجہ سے خلائی مشن ٹھیک طرح سے کام نہ کر رہا ہو۔‘

تاہم بیگل ٹیم کے رہنما کولن پیلنجر کہتے ہیں یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہوگی اگر خلائی مشن عین اسی جگہ اترا ہے جہاں یہ گڑھا تھا۔

چار روز قبل مریخ پر اترنے والے مشن سے اب تک کوئی سگنل موصول نہیں ہوا ہے۔

مریخ پر بھجیے جانے والے خلائی جہاز سے ایک بہت بڑی زمینی ریڈیو ٹیلی اسکوپ کے ذریعے رابط کرنے کی اب تک تمام کوشیش ناکام ثابت ہوئی ہیں اور اس خلائی جہاز سے جسے مریخ کی سطح پر اترنا تھا کوئی آواز یا صدا نہیں سنائی دی ہے۔

اس مشن پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے اب ایک ٹائیگر ٹیم تشکیل دی ہے جو ان وجوہات پر کام کرے گی جو اس خلائی جہاز کی خاموشی کا سبب بن سکتی ہیں۔

سائنسدانوں کا یہ چھوٹا سا گروہ اب اندھے احکامات کی فہرست تیار کررہا ہے جو بیگل ٹو کی خاموشی توڑنے کے لیے بھیجے جائیں گے۔

گوڈریل بینک کی ریڈیو ٹیل سکوپ اور امریکہ میں اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں سائنسدانوں نے اتوار کو بھی بیگل ٹو سے موصول ہونے والے ممکنہ سنگنلز کو سننے کی کوشش کی۔تاہم اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔

مریخ پر خلائی مشن اتارنے والے سیارہ مریح اوڈیسی اگلے چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ اس جگہ کے اوپر سے گزرے گا جہاں بیگل ٹو کو اترنا تھا۔

لیکن بیگل ٹوپر کام کرنے والی ٹیم کے خیال میں اس سے رابطہ کرنے کا اصل موقع اگلے ہفتے کے اختتام پر آئے گا جب مریخ ایکسپریس جو کہ بیگل ٹو کی ماں ہے اس جگہ پہنچے گی جہاں سے بیگل ٹو رابطے میں آسکے۔

اس وقت مریخ ایکسپریس مریخ سے دور جا رہی ہے اور وہ اس تیاری میں ہے کہ ایک مرتبہ پھر انجن کی طاقت سے مریخ کے مدار میں واپس چلی جائے۔

دریں اثنا بیگل ٹو پر کام کرنے والے سائنسدان پوری کوشش میں ہیں کہ کسی طرح اس کی خاموشی کو توڑا جائے۔ اس ٹیم کو مشن پر کام کرنے والے سائنسدانوں سے علیحدہ کر دیا گیا اور ان کے پاس بیگل ٹو کا ایک ماڈل بھی موجودہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد