BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 November, 2006, 16:37 GMT 21:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سورج سے نئی معلومات کی آمد
حینود
حینود اُن مقناطیسی فیلڈز کی تحقیق کرے گی جو سولر فلئرز کو قوت دیتیں ہیں۔
ستمبر میں سورج کے بارے میں علم حاصل کرنے کے لیے بھیجے جانے والے جاپانی خلائی جہاز نے اپنی پہلی سائنسی معلومات خلا سے بھیج دی ہیں۔

لانچ کے وقت خلائی جہاز کا نام ’سولر بی‘ تھا لیکن اُس کا نام تبدیل کر کے ’حینود‘ کر دیا گیا ہے جس کا جاپانی زبان میں مطلب ’طلوع آفتاب‘ ہے۔ لانچ کے بعد خلائی جہاز کا نام تبدیل کرنا ایک جاپانی روایت ہے۔

خلائی جہاز پر لگی تین دور بینیں سولر فلیرز، سورج کی سطح پر ہونے والے عظیم دھماکوں، کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہیں۔

مشن کی ٹیم کے مطابق، جس میں امریکی اور برطانوی سائنسدان شامل ہیں، حینود پر نصب نظام اچھی حالت میں ہیں۔

اس سلسلے میں ایک ماہر پروفیسر لِن کلحان کہتی ہیں: ”ایک آلہ ،جس کی ارتقا اور تعمیر میں کئی سال لگے اُس سے پہلی معلومات ملنے کا انتظارہمیشہ پریشان کن رہتا ہے۔‘

منصوبے کی تعمیر برطانیہ میں یونیورسٹی کالج لندن کی خلائی سائنس لیبارٹریز میں ہوئی۔

سولر فلئرز چند منٹوں میں کروڑوں ہائیڈروجن بموں کی قوت خارج کرتی ہیں۔

حینود اُن مقناطیسی فیلڈز کی تحقیق کرے گی جو سولر فلئرز کو قوت دیتیں ہیں۔

سائنسدانوں کا حتمی مقصد سورج کی سطح پر ہونے والے واقعے کی پیشنگوئی ہے۔

اسی بارے میں
شمسی بادبان خلائی مشن
22 June, 2005 | نیٹ سائنس
سورج میں آگ لگ گئی
05 November, 2003 | نیٹ سائنس
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد