سورج سے نئی معلومات کی آمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستمبر میں سورج کے بارے میں علم حاصل کرنے کے لیے بھیجے جانے والے جاپانی خلائی جہاز نے اپنی پہلی سائنسی معلومات خلا سے بھیج دی ہیں۔ لانچ کے وقت خلائی جہاز کا نام ’سولر بی‘ تھا لیکن اُس کا نام تبدیل کر کے ’حینود‘ کر دیا گیا ہے جس کا جاپانی زبان میں مطلب ’طلوع آفتاب‘ ہے۔ لانچ کے بعد خلائی جہاز کا نام تبدیل کرنا ایک جاپانی روایت ہے۔ خلائی جہاز پر لگی تین دور بینیں سولر فلیرز، سورج کی سطح پر ہونے والے عظیم دھماکوں، کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ مشن کی ٹیم کے مطابق، جس میں امریکی اور برطانوی سائنسدان شامل ہیں، حینود پر نصب نظام اچھی حالت میں ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ماہر پروفیسر لِن کلحان کہتی ہیں: ”ایک آلہ ،جس کی ارتقا اور تعمیر میں کئی سال لگے اُس سے پہلی معلومات ملنے کا انتظارہمیشہ پریشان کن رہتا ہے۔‘ منصوبے کی تعمیر برطانیہ میں یونیورسٹی کالج لندن کی خلائی سائنس لیبارٹریز میں ہوئی۔ سولر فلئرز چند منٹوں میں کروڑوں ہائیڈروجن بموں کی قوت خارج کرتی ہیں۔ حینود اُن مقناطیسی فیلڈز کی تحقیق کرے گی جو سولر فلئرز کو قوت دیتیں ہیں۔ سائنسدانوں کا حتمی مقصد سورج کی سطح پر ہونے والے واقعے کی پیشنگوئی ہے۔ | اسی بارے میں شمسی بادبان خلائی مشن 22 June, 2005 | نیٹ سائنس روشنی سے چلنے والا خلائی جہاز 21 June, 2005 | نیٹ سائنس سورج میں آگ لگ گئی05 November, 2003 | نیٹ سائنس وینس ایکسپریس، زہرہ کے مدار میں11 April, 2006 | نیٹ سائنس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||