BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 October, 2006, 20:34 GMT 01:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جتنا غور، اتنی ہی دھندلاہٹ
غور سے دیکھنے پر زیادہ دھندلاہٹ
زیادہ غور کرنا درحقیقت دھندلے پن کو بڑھاتا ہے
امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق میں سائنسدانوں کو پتہ چلا ہے کہ جب بھی ہم کسی چیز کو دیکھنے کے لیئے اس پر زیادہ غور کرتے ہیں، تو وہ اسی حد تک دھندلی دکھائی دینے لگتی ہے۔

روایتی سوچ کے برخلاف یہ تصور نیچر نامی جریدے میں شائع کی گئی ایک تحقیق میں دیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ اس تصور کی مدد سے ہم یہ جان سکیں گے کہ اکثر بصری اشارے ہم سے محو کیوں ہو جاتے ہیں۔

تحقیق میں شامل افراد کو جب کالے اور سفید رنگ کی پٹیوں پر کچھ دیر تک غور کرنے کے لئے کہا گیا تو ان کی سیاہ سفید میں تمیز کرنے کی صلاحیت بتدریج کم ہو گئی۔

 جب ہم کسی چیز پر توجہ دیتے ہیں تو ہماری دیکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے لیکن ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر میریسا کیراسکو

نیو یارک یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی ساکن چیز کی طرف مسلسل غور سے دیکھا جائے، تو شروع میں تو وہ چیز واضح نظر آتی ہے لیکن کچھ دیر بعد وہ بتدریج دھندلی نظر آنے لگتی ہے۔

ماضی کی تحقیقات میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ ہلکے اورگہرے رنگوں کی اشیا نسبتا واضح نظر آتی ہیں۔ عام سوچ یہی ہے کہ کسی چیز کو نزدیک سے دیکھنے یا پھر اس کی طرف اپنی نظریں مرکوز کرنے سے، وہ مذید بہتر نظر آتی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے رنگوں کا فرق بالکل نمایاں ہو جاتا ہے۔

نئی تحقیق میں شامل، سیموئیل لِنگ اور ڈاکٹر میریسا کیراسکو کا دعویٰ ہے کہ جب ہم کسی چیز پر توجہ دیتے ہیں تو ہماری دیکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے لیکن ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر کیراسکو نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "اگر آپ کسی پردے کے کسی حصے کی طرف غور سے مسلسل دیکھیں تو اس حصے کی اہمیت ختم ہو جائے گی اور کچھ دیر بعد آپ کی نظر، پردے کے اس حصے کے لئے حساس نہیں رہے گی۔"
" یہ بات واقعی پُرتضاد ہے کیونکہ آپ یقینا یہ سوچتے ہیں کہ آپ اس حصے پر توجہ کی مؤثر ترین کوشش کر رہے ہیں۔"

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس تحقیق سے بہت سے ارتقائی فوائد حاصل ہوں گے۔

 یہ نتائج توجہ بھری نظر سے متعلق نئے مگر دلچسپ التباس کو جنم دیتے ہیں، یعنی جتنا زیادہ دیکھو گے، اتنا ہی کم نظر آئے گا۔
پروفیسر پیٹر میک اوون

برطانیہ کی کوئینز یونیورسٹی آف بیل فاسٹ کے نفسیاتی علوم کے سکول سے منسلک ڈاکٹر وِل کیورن کے مطابق یہی اصول شکاری جانور بھی اپنا شکار پکڑنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ شکار کے نزدیک پہنچنے کے لئے کچھ دیر کے لئے ساکن کھڑے ہو جاتے ہیں اور وقفوں میں آگے بڑھتے ہیں۔ اس طرح ان کا شکار دھوکے میں آ جاتا اور وہ اس کے نزدیک پہنچ جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف لندن کے کمپیوٹر سائنسز کے پروفیسر پیٹر میک اوون کا کہنا ہے کہ "یہ نتائج توجہ بھری نظر سے متعلق نئے مگر دلچسپ التباس کو جنم دیتے ہیں، یعنی جتنا زیادہ دیکھو گے، اتنا ہی کم نظر آئے گا۔"
"ہم اس تصور کی مدد سے ایسے کمپیوٹر سسٹم بنا سکتے ہیں جو دیکھنے والے کو تھکاوٹ اور غیر دلچسپی کے بغیر ہی اپنے کام میں مصروف رکھنے میں مدد دیں گے۔"

اسی بارے میں
بال نوچنے کی بیماری کے اسباب
30 September, 2006 | نیٹ سائنس
شوگر کےمریضوں کیلیئے امید
24 September, 2006 | نیٹ سائنس
ایپل کی آئی ٹیونز مقبول مگر؟
17 September, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد