ایتھوپیا: ’لوسی کی بچی‘ مل گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایتھوپیا کے علاقے ڈکیکا سے 3.3 ملین سال پرانا ایک فوسل بنا ہوا ڈھانچہ ملا ہے جو انسان کے مادہ بچے جیسا ہے۔ یہ فوسل 1974 میں دریافت ہونے والے فوسل ’لوسی‘ کی سپیشی کا ہے اور اس سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔ سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں چھپنے والی اس دریافت سے سائنسدان بہت خوش ہیں۔ اس ڈھانچے کی شناخت پہلے سن 2000 میں کی گئی تھی اور اسے چٹان کے درمیان پھنسا ہوا پایا گیا تھا۔ ہڈیوں کو وہاں سے صحیح سلامت نکالنے میں پانچ سال لگ گئے۔ تحقیق کے سربراہ، جرمنی کے شہر لیپزگ کے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ایوولوشنری اینتھروپولوجی کے زیریسینے ایلمسیجڈ کا کہنا ہے کہ ڈکیکا فوسل سے بڑے راز افشاں ہوں گے کیونکہ اس سے قبل فوسل کی شہادت نہیں تھی۔
ڈھانچے میں ملنے والی چیزوں میں مکمل کھوپڑی، اور جسم کے اوپر اور نیچے کے حصے شامل ہیں۔ سی ٹی سکین کرنے سے ڈھانچے کے متعلق پتہ چلا ہے کہ یہ ایک تین سالہ بچی کا ہو سکتا ہے۔ یہ سپیشی بندر نما انسان کا مرکب ہے یعنی اس میں دونوں خصوصیات ہوتی ہے۔ اسے افرینسس کہتے ہیں اور یہ اس بات پر روشنی ڈال سکتی ہے کہ انسان بندر سے کیسے انسان بنا۔ ڈاکٹر ایلمسیجڈ کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے اس سپیشی کا ایک خاص مقام ہے کیونکہ اس کہانی کو مکمل کرنے میں اہم مدد ملے گی کہ ہم کیا ہیں اور کہاں سے آئے ہیں‘۔ انسان کے اس پرکھ کے بہت مختلف اور ابتدائی دور کے قدیم ترین دانت ہیں، چھوٹا دماغ ہے اور وہ دونوں پیروں پر سیدھا چل سکتا تھا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ ’ڈکیکا گرل‘ بندروں کی طرح درختوں سے جھول سکتی تھی۔ اس کے بازو لمبے ہیں اور اس کندھے گوریلے کی طرح ہیں۔ | اسی بارے میں انسان کا جدِامجد دریافت19 November, 2004 | نیٹ سائنس امریکہ: قدیم ترین ہڈی کی دریافت 02 April, 2004 | نیٹ سائنس قدیم مینڈکوں کے ’سافٹ ٹشو‘27 July, 2006 | نیٹ سائنس ڈائینوسار کا دشمن13 January, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||