BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 July, 2006, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قدیم مینڈکوں کے ’سافٹ ٹشو‘
یہ نمونہ سپین سے دریافت ہوا ہے
جنوب مغربی سپین میں پائی جانے والی ایک دلدل سے سائنسدانوں نے ایک کروڑ سال پہلے دفن ہو جانے والے مینڈکوں اور چھپکلیوں کی ہڈیوں سے گودا نکالا ہے۔

سائنس کی تاریخ میں سائنسدانوں کو ملنے والا یہ صدیوں پرانا ہڈیوں کا گودا سب سے زیادہ قدیم ہے اور اس کی مدد سے سائنسدان قدیم تاریخی جانوروں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں گے۔

عام طور پر قدیم ہڈیوں میں صرف سخت ٹیشوز یعنی کہ صرف ہڈیاں ہی محفوظ رہتی ہیں لیکن ان ملنے والی ہڈیوں میں سافٹ ٹیشو یعنی کہ گودا بھی غیر معمولی طور پر محفوظ ہے۔

جیالوجی جرنل میں ریسرچرز کی رپورٹ کے مطابق اس سافٹ ٹیشو میں ڈی این اے اور پروٹین کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔

بان میرو یا ہڈیوں کا گودہ وہ ٹیشو ہے جو کہ بڑی ہڈیوں کے درمیان میں موجود ہوتا ہے اور نئے پیلاٹیٹس بنانے کے ساتھ ریڈ اور وائیٹ بلڈ سیل بھی بناتا ہے۔

اس کی دو قسمیں ہیں ایک ہیماٹوپوایٹک جو ریڈ بلڈ سیل بناتی ہے اور دوسری سٹرومال جو کہ چربی، کارٹیلج اور ہڈیاں بناتی ہے۔

حاصل ہونے والا قدیم ہڈیوں کا گودہ 3 ڈی میں محفوظ رہا ہے جس کی وجہ سے گودہ کی اصل بناوٹ، ہیماٹوپوایٹک کا سرخ اور پیلا رنگ اور میرو کی چربی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔

یونیورسٹی کالج ڈبلن سے ماریہ میکنامرا کا کہنا ہے کہ ’ اس طرح کے سافٹ ٹیشو کا ملنا بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ قدیم جانوروں کی جسمانی ساخت کیسی تھی اور ان کے جسم کیسے کام کرتے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ چھپکلی سے ملنے والا گودا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں ریڈ بلڈ سیل بان میرو میں بنتے تھے جبکہ کہ آج کل پائی جانے والی چھپکلیوں میں ایسا نہیں ہے بلکہ

قدیم فاسل میں سافٹ ٹیشو موجود ہے
یہ سیلز سپلین میں بنتے ہیں‘۔

یہ مینڈکیں اور چھپکلیاں اس قدیم ذخیرے سے ملی ہیں جو کہ ارضائی عہد کے چوتھے قرن سے مخفوظ ہے اور تقریبًًا پانچ اشاریہ تین ملین سالوں سے لے کر تئیس ملین سال قدیم ہو سکتا ہے۔

ماریہ میکنامرا اور ان کے امریکہ، برطانیہ اور سپین میں موجود ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کے گودے کے محفوظ رہنے کی وجہ اس کے گرد ہڈیوں کے خول کی موجودگی تھا جنھوں نے جراثیموں کو گودے تک پہنچنے سے مخفوظ رکھا۔

انھیں یقین ہے کہ اس طرح کے کئی اور محفوظ ہڈیوں کے گودے ان کو ملیں گے جن کی مدد سے وہ قدیم جانوروں میں پروٹین اور ڈی این اے کے بارے میں تحقیق کر سکیں گے۔

ڈبلن سے ایک ریسرچر نے کہا ہے کہ ’ ہمارے لیے یہ سب بہت دلچسپ ہے کیونکہ اس کی مدد سے ہم آرگینک مالیکیولز، پروٹین اور شاید ڈی این اے کے بارے میں بھی جان سکیں گے۔

’ اس طرح کے کئی اور ٹیشو بھی محفوظ ہونے کا بہت امکان ہے اور ان کی وجہ سے ماہرین حیوانات و نباتات مزید پروٹین اور ڈی این اے ڈھونڈ سکیں گے‘۔

یقینًا پچھلی کئی رپورٹوں کے مطابق قدیم بلڈ سیلز کی دریافت متنازعہ ثابت ہوئی ہے۔ اور اکثر دریافتیں معدنی اشیاء کے ذخیرے سے سے زیادہ کچھ نہ تھیں۔

پچھلے سال امریکی تحقیق کاروں نے کچھ ایسے باریک ریشے دریافت کیے تھے جو کہ ڈائیناسور کی بلڈ ویسلز سے مشہابت رکھتے تھے۔ انھیں کچھ ایسے باقیات بھی ملے تھے جو کے ریڈ بلڈ سیلز کی طرح دیکھائی دیتے تھے ۔

یہ ہڈی ٹیرانوسارس ریکس کا نمونہ ہے جو کہ 65 ملین سال پرانی ہے۔

اسی بارے میں
زیادہ کام، ہڈیاں کمزور
12 November, 2003 | نیٹ سائنس
ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے سیمنٹ
20 September, 2004 | نیٹ سائنس
زمین جیسا سیّارہ دریافت
26 January, 2006 | نیٹ سائنس
انسان کا جدِامجد دریافت
19 November, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد