نیٹ براؤزر’براؤزار‘ پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرائیویسی مہیا کرنے والا سوفٹ وئیر’براؤزار‘ اشتہاروں کے بھرمار کی وجہ سے اصل نام کی بجائے ’ایڈوئیر‘ کے نام سے مشہور ہو رہا ہے۔ اس سوفٹ وئیر کو کمپیوٹر کے ماہرین اور بلاگ کمیونٹی کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ براؤزار پرائیویسی مہیا کرنےکا دعوًی کرتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جبکہ اس کے بنانیوالے اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ لوگوں کے نقطہ نظر ان تک پہنچتے رہتے ہیں اور اس کے لیئے’ایڈوئیر‘ کی اصطلاح استعمال کرنا بالکل غلط ہے کیونکہ یہ دوسرے سرچ انجن کی طرح صرف تعاون کرنے والوں کے اشتہار دیتا ہے۔ ’ایڈوئیر‘ ایک ایسا سوفٹ وئیر ہے جو کمپیوٹر پر اشتہار چلنے کی خود بخود اجازت دے کر اشتہار چلا دیتا ہے۔ لیکن برؤزار سائٹ کے مطابق اس پر کسی ’میل وئیر‘، سپائی وئیر‘ اور ’ایڈوئیر‘ کی گنجائش نہیں ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصے سے ایک نیا ویب براؤزر ’براؤزار‘ کے نام سے سامنے آیا ہے جو خود بخود آن لائن سرفنگ کا سارا ریکارڈ مٹا دیتا ہے اور یوں مکمل پرائیویسی مہیا کرتا ہے۔ براؤزر بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لیئے فائدہ مند ہے جو کمپیوٹر پر سرفنگ کا ریکارڈ نہیں رکھنا چاہتے خاص طور پر جب وہ نیٹ کیفے کے کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں۔ انٹر نیٹ سروس مہیا کرنے والے ’فری سرو‘ اور براؤزار ڈیزائن کرنے والے اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ دو سو سے زیادہ ملکوں میں لوگوں نے اسے ڈاؤن لوڈ بھی کیا ہے۔ براؤزار ایک ایسا پروگرام ہے جوڈاؤن لوڈ کرنے پرانٹر نیٹ ایکسپلورر کے صفحے کے اوپر کے حصے پر ظاہر ہو جاتا ہے اور مائیکرو سافٹ کے اس ایکسپلورر کی شکل اور کچھ فنکشن تبدل کر دیتا ہے۔ اس نئے براؤزر کو مفت ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے مگر اسے استعمال کرنے سے بہت سے اشتہاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ براؤزر کے اندر رہتے ہوئے گوگل اور یاہو کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ براؤزار کے صفحے پر داہنی طرف کےاوپر کونے میں ویب سرچ کرنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔ جب اس پر سرچ کیا جاتا ہے تو یہ اصل نتیجہ سامنے لانے کے ساتھ بہت سے اشتہار لنک کر دیتا ہے مثال کے طور پر اگر بی بی سی کی سائٹ کو ڈھونڈا جائے تو نتیجے کے طور پر شاپنگ سائٹ’ای بے‘ پر بی بی سی کی دستیاب ریکارڈنگ کا اشتہار آجاتا ہے۔ اور نیچے لکھا ہوا آ جاتا ہے کہ یہ اشتہار تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس اشتہار کے پیسے وصول کیئے گئے ہیں۔ ان اشتہاروں کو ایک پروگرام ’اوور ٹور‘ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے جو کہ ’یاہو‘ کا تخلیق کردہ ہے۔ تاہم اعـجاز احمد کا کہنا ہے کہ لوگوں پر براؤزار استعمال کرنے کی پابندی نہیں ہے وہ چاہیں تو اسے استعمال نہ کریں۔ لوگوں کے اعتراضات کو دیکھتے ہوئے اس سرچ انجن میں کچھ تبدیلیاں کی جا رہی ہیں براؤزار، کسی بھی سائیٹ کو جسے آپ نے کھولا تھا دوسرے ویب براؤزرز کی طرح ریکارڈ نہیں کرتا اسی لیئے اگلی دفعہ جب آپ لاگ آن کرتے ہیں تو ڈراپ ڈاؤن ایڈریس بار پر پچھلی دفعہ کی کھولی ہوئی سائیٹ نظر نہیں آتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو پر ویب ہسٹری فولڈر نہیں ہے۔ چناچہ ویب کے ان صفحات کی ویب کیشز بھی نہیں ہیں جو عام طور کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو پر سٹور ہوتی ہیں جن سے کپمیوٹر کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ زیادہ استعمال کی جانے والی سائٹس جھٹ سے کھول دیتا ہے۔ یہ براؤزر ہر سیشن کے اختتام پر کوکیز کو مٹا دیتا ہے۔ کوکی ایک چھوٹی سی ڈیٹا فائل ہوتی ہے جو ویب سائٹس کا پتا لگاتی ہیں۔ کوکیز سائیٹ کے بارے میں تفصیلاً بتاتی ہیں کہ ان تک کیسے پہنچا گیا۔ براؤزر موبائل فون کی طرح خود کار مکمل فنکشن استعمال نہیں کرتا اور اسی لیئے سرچ انجن پر گزشتہ استعمال کی گئی اصطلاحات کو ضائع کر دیتا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس براؤزر میں بہت سی خامیاں ہیں۔ بلاگ لکھنے والے سکاٹ ہینسلمین کا کہنا ہے ’اس پروگرام کوڈاؤن لوڈ کرنے کے باوجود میں ریکارڈ دیکھ سکتا ہوں کہ میں نے کس کس سائیٹ کو کھولا تھا۔ اس لیئے کم از کم یہ پروگرام وہ سب نہیں کر رہا جس کا یہ دعوًی کرتا ہے‘۔ حالیہ سال کے شروع میں ویب کا تجزیہ کرنے والی فرم ’ون سٹیٹ‘ کے مطابق براؤزر کا مارکیٹ شیئر ساڑھے تراسی فیصد تھا جو 2004 میں بڑھ کر پچانوے فیصد ہو گیا۔ اس وقت یہ صرف مائیکروسافٹ ونڈوز کے لیئے ہے مگر جلدی ہی ایپل میکس اور لینیکس کے لیئے بھی اس کا نیا ورژن مارکیٹ میں آرہا ہے۔ | اسی بارے میں انٹرنیٹ فون میں ہیکروں کی دلچسپی20 September, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ پر امریکہ کا کنٹرول15 November, 2005 | نیٹ سائنس فائرفاکس ویب براؤزر نئے روپ میں29 November, 2005 | نیٹ سائنس ونڈوز کی خرابی سے وائرس میں آسانی29 December, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ بینڈوتھ کے نرخوں میں کمی 14 July, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||