گائیوں کے علاقائی لہجے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین لسانات کا کہنا ہے کہ انسانوں کی طرح گائیوں کے ممیانے کے بھی علاقائی لہجے ہوتے ہیں۔ اس بات پر تحقیق انہوں نے اس وقت شروع کی جب گوالوں نے یہ محسوس کیا کہ مختلف غلوں سے متعلق رکھنے والی گائیوں کے ممیانے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف لندن میں لسانیات کے پروفیسر جان ولیز نے کہا ہے کہ یہ غنائیت اس سے پہلے پرندوں میں دیکھی گئی تھی۔ سمریسٹ کے جن کسانوں نے یہ فرق محسوس کیا ہے وہ ان کے اپنے جانوروں کے ساتھ قریبی تعلق کا نتیجہ ہے۔ گلسٹوبری سے تعلق رکھنے والے کسان لائیڈ گرین کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنے جانوروں کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے اور وہ یقینا سمریسٹ گائیوں کی طرح غنائیت کرتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں نے مغربی دیہات کے دوسرے کسانوں سے بھی بات چیت کی ہے اور ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے غلوں میں یہ تبدیلی محسوس کی ہے۔ جتنا قریبی تعلق کسان کا اپنے جانوروں سے ہوتا ہے اتنا ہی جلدی وہ اپنے مالک کا لہجہ نقل کرتی ہیں۔‘ پروفیسر ویلز نے محسوس کیا ہے کہ جانوروں کے لہجے میں یہ تبدیلی ان کے ساتھی جانوروں کی وجہ سے بھی آ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ مشاہدہ پرندوں میں کیا گیا ہے۔ آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک علاقے میں پائے جانے والے ایک نسل کے پرندے ایک ہی طرح چہچہاتے ہیں۔‘ ’یہ بات گائیوں کے لیے بھی سچ ہو سکتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے غلوں لہجوں کا یہ فرق اپنے ساتھوں کی وجہ سے بھی پڑتا ہے۔‘ یونیورسٹی آف برسٹل کے شعبہ لسانیات سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر جینین ٹریفرز کا کہنا ہے کہ جانوروں کا یہ لہجہ اپنے ساتھوں کے ساتھ رہنے سے متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ہم بولنا سیکھ رہے ہوتے ہں تو ہم اپنے والدین کا علاقائی لہجہ اپناتے ہیں اور یہی بات مقربی علاقے کے دیہی علاقوں کی گائیوں کے لیے بھی صیحیح ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں پرندوں کی تربیت کمپیوٹر پر 16 May, 2005 | نیٹ سائنس پرندے آلودگی کے ذمہ دار15 July, 2005 | نیٹ سائنس جانور کی چھٹی حس انہیں بچا گئی01 January, 2005 | نیٹ سائنس عالمی حدت سے حیوانات کو خطرہ06 October, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||