تیز رفتار سیلیکان: نیا ریکارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی سائنسدانوں کے مطابق سیلیکان ٹرانسسٹرز کی سطح میں زرا سی تبدیلی تیز اور سستے موبائل فون اور ڈیجیٹل کیمرے بنانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ آلات جن میں تبدیلی کی گئی ہے پہلے ہی تیز ترین ٹرانسسٹر ہونے کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ مطلوبہ رفتار حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمٹن نے سیلیکان میں فلورین کو استعمال کیا ہے۔موجودہ سیلیکان ٹیکنالوجی کا استعمال اس طریقہ کار کے حصول کو آسان اور تیز رفتار بنا دے گا۔ یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمٹن کے پروفیسر پیٹر ایش برن نے کہا ہے کہ ’یہ ایک بنیادی ٹیکنالوجی ہے اور اس میں صرف ایک نئے قدم کا اضافہ ہے۔ اور یہ بہت سستا طریقہ ہے۔‘ اس تحقیق میں ایک سادہ سا ٹرانسسٹر استعمال کیا گیا ہے جسے بائی پولر ٹرانسسٹر کہا جاتا ہے۔ ٹرانسسٹر میں چھوٹی اینٹوں کی ماند ماہیکرو چپس موجود ہوتے ہیں جو کہ کمپیوٹرز ، ایم پی تھری پلیرز اور موبائل فونوں میں لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ مائیکرو چپس میں بجلی کے کرنٹ کو کنٹرول کرتے ہیں اور اپنی سکت کے مطابق کسی سگنل کو بڑھانے یا کسی سرکٹ کو آن یا آف کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ٹرانسسٹرز کے مختلف مجموعوں کو حساب کتاب اور دیگر کمپیوٹر سے متعلقہ کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دو پول والے ٹرانسسٹر سیمی کنڈکنگ مادہ تین تہوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور ہر تہہ کے درمیان مختلف مادہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ٹرانسسٹر میں پتلی تہہ کے استعمال کا مطلب ہے کہ الیکٹران آلے میں زیادہ تیز رفتاری سے گزر سکتے ہیں جو کہ آلے کی مجموعی رفتار میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔
تیز رفتار ٹرانزسٹر بنانے کا متبادل طریقہ کار بھی موجود ہیں لیکن ان میں گیلیم آرسیناہیڈ اور سیلیکون جرمینیم جیسے کم پائے جانے والے مادے استعمال ہوتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ یہ طریقے بہت مہنگے بھی ہیں۔ سیلیکون کی صنعت چھوٹے چپس کا استعمال کرکے رفتار بڑھانے کی کوشش جاری رکھے گی کیونکہ یہ سستہ اور قابل بھروسہ بھی ہیں۔ یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمٹن کا کام ایک حل پیش کرتا ہے۔ پروفیسر ایش برن اور ان کے ساتھیوں نے ایس ٹی سی مائیکرو الیکٹران میں بوران کی بھرائی والے اور سیلیکون پر مشتمل ایک سادہ ٹرانسسٹر کو اپنی تحقیق میں استعمال کیا ہے۔ محقیقین کے معلوم کرنے پر آلے نے 110 گیگا ہرٹس کی رفتار بتائی ہے۔ سابقہ عالمی ریکارڈ ایک بڑی الیکڑانک کمپنی فلپس کے پاس تھا جس نے 70 گیگاہرٹس کی رفتار پر چلنے والی ٹرانسسٹر بنائے تھے جو کہ سرکٹ کو 7 گیگا ہرٹس کی رفتار تک پہنچا سکتی ہیں۔ پروفیسر ایش برن نے کہا ہے کہ ’ اس کا کوئی عالمی ریکارڈ نہیں ہے لیکن یہ اب تک چھپنے والے مواد میں تیز ترین ہے۔‘ | اسی بارے میں کمپیوٹراب انسانی خیالات پڑھےگا31 March, 2005 | نیٹ سائنس موبائیل فون: تیز رفتار تحریری پیغام20 September, 2003 | نیٹ سائنس چاول کے دانے کے برابر میموری چِپ18 July, 2006 | نیٹ سائنس ماحول دوست مائیکرو چِپ30 June, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||