ماحول دوست مائیکرو چِپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ماہرین نے ایک ایسی تکنیک تیار کی ہے جس کی مدد سے ارزاں اور ماحول دوست مائیکرو چپ تیار کی جا سکتی ہیں۔ یونیورسٹی کالج لندن کی ٹیم نے اپنے اس تجربے کے دوران جدید مائیکرو چپ کے اہم جزو سلیکون ڈائی آکسائیڈ کی تیاری میں کم درجۂ حرارت اور بالا بنفشی شعاؤں(الٹراوائلٹ ریز) کا استعمال کیا۔ مائیکرو چپ بنانے کے حالیہ رائج عمل میں سلیکون ڈائی آکسائیڈ کو ایک ہزار سینٹی گریڈ درجۂ حرارت تک گرم بھٹیوں میں تیار کیا جاتا ہے جبکہ نئی تکنیک میں یہ تیاری عام درجۂ حرارت پر کی گئی جس میں توانائی کا استعمال بھی کم ہوا۔ عام درجۂ حرارت پر سلیکون ڈائی آکسائیڈ کی تیاری کا عمل کیونکہ بہت سست ہوتا ہے اس لیئے چپ بنانے والےسلیکون کو بہت زیادہ درجۂ حرارت پرگرم کرتے ہیں۔ نئی تکنیک میں تیاری کے عمل کی تیزی کے لیئے ایک تیس سنٹی میٹر لمبا الٹرا وائلٹ لیمپ استعمال کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف لندن کے پروفیسر این بوائیڈ کا کہنا ہے کہ’اس دریافت کا مطلب ہے کہ نہ صرف توانائی کے اخراجات میں کمی کی وجہ سے عام صارفین کے زیرِاستعمال برقی اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی بلکہ یہ ماحول کے لیئے بھی بہتر ثابت ہوگا‘۔ مائیکرو چپس ان پیچیدہ برقی سرکٹس سے مل کر بنتی ہیں جو کہ ٹرانسسٹرز جیسے مختلف سیلکون اجزاء سے تیار ہوتے ہیں اور مائیکروچپس کی تیاری کے لیئے درکار مادے انتہائی خالص حالت میں استعمال کیئے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیمبرج کے ڈاکٹر ڈگلس پال کا کہنا ہے کہ مادے کا خالص پن ہی وہ چیز ہے جو کہ اس نئی تکنیک کی کامیابی میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ بہت سے لوگ اس قسم کے نتائج سامنے لا چکے ہیں لیکن وہ تمام ٹیکنیکس برقیات کے میدان میں اس لیئے کام نہ آ سکِیں کیونکہ ان کی ’ڈیفکٹ ڈینسٹیز‘ بہت زیادہ تھیں‘۔ | اسی بارے میں چلی چپ: رفتار کے ریکارڈ ٹوٹ گئے21 June, 2006 | نیٹ سائنس کمپیوٹراب انسانی خیالات پڑھےگا31 March, 2005 | نیٹ سائنس جسم میں چِپ لگ سکتی ہے06 July, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||