نوکیا اور سیمنز کا اشتراک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوکیا اور سیمنز کمپنی نے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ اپنےموبائل فون اور فون نیٹ ورک کے آلات کا کاروبار کا اشتراک کردیں دیں گے۔ اس طرح یہ ادارہ دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ادارہ بن جائے گا۔ تنظیم کے ڈھانچے میں دونوں اداروں کا 50 فیصد حصہ ہوگا۔ نئی کمپنی فن لینڈ میں ہوگی جہاں موجودہ نوکیا کا ادارہ قائم ہے۔ ادارے کے تخمینے کے مطابق اشتراک کے بعد کمپنی کی سالانہ فروخت 16 ارب یورو تک جاپہنچے گی جبکہ 2010 سے ہر سال ایک اعشارہ پانچ بلین یورو کی بچت متوقع ہے۔ یہ اشتراک فرانسیسی فون کمپنی الکاٹیل اور امریکی کمپنی لوسنٹ ٹیکنالوجیز کے اشتراک کے بعد سامنے آیا ہے۔ نیا کاروبار، جس میں سیمنز کا نیٹ ورک اور نوکیا کا فون ایکوپمنٹ ہوگا، نوکیا سیمنز نیٹ ورکس کہلائے گا۔ ادارے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اشتراک کے بعد ان کے پاس دنیا کے بہترین فون تیار کرنے کی صلاحیت ہوگی، دنیا بھر میں خریداروں میں اضافہ ہوگا اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک میں ان کی مارکیٹ میں توسیع ہوگی۔ یہ نئی کمپنی سائمن برسفورڈ وائلی چلائیں گے جو نوکیا کے موجودہ سربراہ ہیں۔ وال سٹریٹ جنرل کے مطابق جنوری 2007 میں مکمل ہونے والے اس معاہدے کی قیمت 25 ارب یورو ہوگی۔ اس اشتراک سے ٹیلی کمیونیکیشن کا کاروبار مزید وسعت پائے گا کیونکہ ایشیا کی جانب سے سستی اشیا کی تیاری کے بعد دنیا بھر کے اداروں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ طویل عرصے تک منافع کا باعث ہوگا۔ | اسی بارے میں نوکیا اور مائیکرو سافٹ ساتھ ساتھ15 February, 2005 | نیٹ سائنس ’موبائل دماغ پر اثر نہیں کرتا لیکن۔۔۔‘12 April, 2005 | نیٹ سائنس ٹی وی موبائل فون، منڈیوں کی جنگ 13 September, 2005 | نیٹ سائنس موبائل فونز کی فروخت میں اضافہ22 November, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||