BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 May, 2006, 15:03 GMT 20:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یو ایف او، خطرے کی گھنٹی نہیں
یو ایف او کے مشاہدے بارہا کیے گئے ہیں
برطانوی وزارت دفاع کے ایک مطالعے کے مطابق یو ایف او یعنی ’فضا میں اڑنے والی طشتری‘ کے مشاہدات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خلاء میں زندگی کا وجود ہے۔

دنیا کے کئی علاقوں میں کئی بار لوگوں کو فضا میں اڑنے والی طشتری یعنی یو ایف او (ان آئڈینٹیفائیڈ فلائنگ آبجیکٹس) کے مشاہدے ہوئے ہیں جس پر قیاس آرائیاں ہوتی رہتی ہیں کہ کیا اجنبی یا خلائی مخلوق وجود رکھتی ہے۔

وزارت دفاع کے مطالعے کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کو خلا میں کسی ممکنہ اجنبی مخلوق سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مطالعہ انیس سو نوے کے عشرے میں شروع کیا گیا اور اس کی تکمیل سن 2000 میں ہوئی۔

چار برسوں کے دوران کی جانے والی اس خفیہ تحقیق کی برطانوی وزارت دفاع نے صرف چند کاپیاں شائع کی تھیں اور جس شخص نے اسے تحریر کی اس کا نام بھی خفیہ رکھا گیا۔

اس تحقیق کا مرکزی سوال یہ تھا: ’کیا وہاں کوئی ہے؟‘

مطالعے کے بعد تحقیق کاروں کا جواب یہ ہے: ’نہیں۔‘

مشاہدات خطرناک نہیں
 ایسے شواہد کا وجود نہیں ہے جن سے یہ اخذ کیا جاسکے کہ (یو ایف او کے) یہ مشاہدات خطرناک ہیں یا انہیں کوئی کنٹرول کررہا ہے، وہ فطری طاقتوں کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔
وزارت دفاع کی تحقیق
چار سو صفحات والی اس رپورٹ کا کہنا ہے: ’ایسے شواہد کا وجود نہیں ہے جن سے یہ اخذ کیا جاسکے کہ (یو ایف او کے) یہ مشاہدات خطرناک ہیں یا انہیں کوئی کنٹرول کررہا ہے، وہ فطری طاقتوں کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔‘

مطالعے کے مطابق اس طرح کے شواہد بھی نہیں کہ ٹھوس مادے وجود میں ہیں جو ٹکراکر افراتفری پیدا کرسکتے ہوں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یو ایف او ٹھوس مادے نہیں ہیں تو وہ آخر کیا ہیں جنہیں دنیا کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے اڑتی ہوئی طشتری کی طرح فضا میں بارہا دیکھا ہے۔

اس کا سائنسی جواب کچھ یوں ہے۔

اس تحقیق کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ غیرشناخت شدہ فضائی مشاہدات یعنی یو ایف او ٹوٹتے ہوئے ستاروں اور ان کے اثرات کے نتیجے میں دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی یو ایف او خلاء میں مقناطیسی، برقی، طبیعاتی اور موسمیاتی فورسز کے درمیان ردعمل سے وجود میں آتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق خلاء میں مختلف برقی، مقناطیسی اور موسمیاتی حالات کے نتیجے میں کچھ اس طرح چند وقفوں کے لیے وجود میں آتے ہیں کہ ہر شخص کے لیے وہ انوکھے نظر آتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو جو یہ کہتے ہیں کہ ان کا یو ایف او کا ’قریبی مشاہدہ‘ ہوا ہے، یہ سمجھانا مشکل ہے کہ انہوں نے وہی چیز نہیں دیکھی جسے وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا۔

برطانوی وزرات دفاع کی تحقیق میں اس کا جواب طبی اور برقی سطح پر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

مثال کے طور پر طرح کسی علاقے میں برقی اور مقناطیسی عناصر کی موجودگی انسانی دماغ کو متاثر کرسکتی ہے جو یو ایف او کے مشاہدے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

یو ایف او کے مشاہدات کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن ہر شخص کو یہ سمجھانا مشکل ہوگا کہ اس طرح کے پراسرار عوامل کا ایک سائنسی جواب ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ وزارت دفاع کے تحقیق کاروں نے اس خلائی مطالعے پر کتنا وقت صرف کیا۔

اسی بارے میں
ستارہ کہکشاں چھوڑ چلا
09 February, 2005 | نیٹ سائنس
زمین جیسا سیّارہ دریافت
26 January, 2006 | نیٹ سائنس
بارش کے لیے سیاروں کا جال
03 April, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد