BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 April, 2006, 08:42 GMT 13:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موٹاپے کا علاج قدرتی ہارمون سے
موٹاپا
دنیا بھر میں لاکھوں افراد موٹاپے کا شکار ہیں
انسانی معدے میں قدرتی طور پر موجود ایک ہارمون کی مقدار میں اضافہ کر کے موٹاپے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ’اوکسٹنٹوموڈلن‘ نامی یہ ہارمون نہ صرف بھوک پر قابو پاتا ہے بلکہ’ایکٹیوٹی لیول‘ میں بھی اضافہ کرتا ہے جس سے صحتمندانہ انداز میں وزن کم کیا جا سکتا ہے۔

یہی ہارمون انسانی دماغ کو یہ پیغام بھیجتا ہے کہ اب پیٹ بھر چکا ہے اور موٹے افراد میں اس ہارمون کی کمی ہوتی ہے۔

’انٹرنیشنل جنرل آف اوبیسٹی‘ نامی رسالے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’ڈائٹنگ‘ سے چونکہ ’ایکٹوٹی‘ میں کمی واقع ہو جاتی ہے اس لیئے وزن کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

امپیرئل کالج لندن کے پروفیسر سٹیو بلوم کا کہنا ہے کہ اس ہارمون سے بھوک میں واقعتاً کمی ہوتی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس ہارمون سے جسمانی’ایکٹوٹی لیول‘ میں اضافے کا پتہ چلا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ہارمون کا قدرتی طور پر انسانی حسم میں پایا جانا بھی ایک فائدہ مند چیز ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں اس ہارمون کے صحت پر مضر اثرات پرنے کا اندیشہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ ان خراب دوائیوں کی مانند نہیں جن میں آپ کو سالوں تک خوفناک کیمیکل کھانے پڑتے ہیں‘۔

موٹے افراد اس ہارمون کی کمی کی وجہ سے زیادہ کھانا کھاتے ہیں۔ علاج کے دوران ان موٹے افراد میں اس ہارمون کی مقدار بڑھا دی جائے گی۔ پروفیسر بلوم کا کہنا ہے کہ’ اس دریافت سے ڈاکٹروں کو موٹاپے کے علاج کا ایک بالکل نیا طریقہ مل جائے گا۔ ہمیں خوراک کی کمی سے اپنی توجہ ہٹا کر جسمانی ورزش پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
دل کی بیماری کا سبب
14 September, 2003 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد