برڈ فلو وائرس کی ایک اور شکل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدانوں نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت جو برڈ فلو وائرس پھیلا ہوا ہے اس کی دو الگ الگ صورتیں ہیں۔ سائنسی زبان میں اسے "ایچ 5 این 1 " کہا جاتا ہے ۔ سا ئنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث انسانوں کے لیے اس وائرس کی وجہ سے خطرے میں اضافہ ہو گیا کیونکہ اس سے بچاؤ انجیکشن کی تلاش ممید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امریکی سائنسدانوں نے اس بار میں تفصیلات اٹلانٹا میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کی ہیں۔ یہ کانفرنس "نئے متعدی یا انفیکشش امراض" کے موضوع پر منعقد ہوئی تھی۔ امریکی ٹیم نے ایچ 5 این 1 کے تین سو ایسے نمونوں کا تجزیہ کیا جو 2003 سے 2005 کے دوران متعدی امراض کے شکار ہونے والے پرندوں اور انسانوں سے حاصل کیے گئے تھے۔ سن 2005 سے پہلے برڈ فلو نامی اس وائرس یا چھوت کی بیماری کا سبب ایچ 5 این 1 کی ایک ذیلی قسم کے جراثیم تھے اور ان کا نشانہ بننے والے ویت نام کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں پائے گئے تھے۔ لیکن امریکی تحقیقی مراکز نے حال ہی میں جو نتائج مرتب کیے ہیں ان کے مطابق موجودہ برڈ فلو کا وائرس جینیاتی طور پر ایک ایسی منفرد قسم ہے جو گزشتہ سال ہی سامنے آئی ہے اور اس کا نشانہ بننے والے اولین لوگ انڈونیشیا میں پائے گئے۔ محقق ڈاکٹر ربیکا گارٹن کا کہنا ہے کہ ’یہ وائرس اپنی جغرافیائی توسیع کے ساتھ ساتھ جینیاتی طور پر بھی تبدیل ہوتا جاتا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’2003 تک ہم اس وائرس کی صرف ایک ہی ایسی قسم کے بارے میں جانتے تھے جو انسانوں کو نشانہ بنا سکتی تھی لیکن اب ہم ایسی دو اقسام کے بارے میں جانتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ یورپ، افریقہ اور ایشیا کے کچھ حصوں میں اس وائرس کے پھیلاؤ سے ایک سو اسی افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک سو افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ وائرس انسانوں میں انتہائی تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو دنیا بھی میں اس کا نشانہ بننے والوں کی تعداد لکھوکھا ہو سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں برڈفلو: سوال وجواب15 October, 2005 | نیٹ سائنس ہالینڈ میں مرغیاں گھر میں رہیں گی22 August, 2005 | نیٹ سائنس ویت نامی میں برڈ فلو 09 March, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||