ہرکسی سےبوسے کریں گردن توڑبخار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے ماہرین کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ ’کئی‘ افراد کے ساتھ بوسے کرنے سے گردن توڑ بخار کا خطرہ چار گنا بڑھ سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زبان کے ساتھ بوسہ کرنے سے گردن توڑ بخار کے جراثیم ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ تحقیق میں کئی افراد سے بوسہ کرنے ان کی مراد دو ہفتوں میں سات مختلف لوگوں سے بوسہ کرنا ہے۔ تحقیقاقی ٹیم کی سربراہی کرنے والے رابرٹ بوئی نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرو رت ہے لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی امید نہیں۔ گردن توڑ بخار جان لیوا بیماری ہے۔ اس کی زیادہ مثالیں بچپن اور جوانی میں ملتی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں انیس سو نوے کی دہائی میں نوجوانوں میں گردن توڑ بخار کے واقعات میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں انیس سو ننانوے میں میننجائٹس سی ویکسین متعارف ہونے کے بعد اس بیماری کے واقعات کم ہو گئے لیکن یہ اب بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ تیرہ سے انیس سال کی عمر کے بچوں میں گردن توڑ بخار کے جراثیم کی شرح دس فیصد ہے۔ | اسی بارے میں اور اب بوسے پر تحقیق14.02.2003 | صفحۂ اول ایران: بوسے کا بحران04.10.2002 | صفحۂ اول بوسہ کرنے کا عالمی ریکارڈ ٹوٹ گیا14 February, 2004 | آس پاس ’جو دینا ہوں تجھے بوسے۔۔۔‘16 February, 2004 | صفحۂ اول ہوائی بوسے05 December, 2004 | قلم اور کالم ہندو شادی کے بعد بوسے پر جرمانہ22 September, 2005 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||