BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 May, 2005, 01:18 GMT 06:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بندروں کی نئی قسم کی دریافت
بندروں کی نئی قسم
یہ بندر درختوں پر رہتا ہے اور بیبون(baboon) کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
ماہرین نے تنزانیہ کے جنوب میں پہاڑوں میں بندروں کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے جو اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی تھی۔

کہا گیا ہے کہ یہ جانور ناپید ہونے کے خطرے سے دو چار ہے اور اس قسم کے صرف ایک ہزار بندر موجود ہیں۔

یہ بندر درختوں پر رہتا ہے اور بیبون(baboon) کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

بندروں کی نئی قسم کی دریافت کے بارے میں جمعرات کو سائنس نامی جریدے میں انکشاف کیا گیا۔

سائنسدانوں کے پاس نئی دریافت کے بارے میں ٹھوس شواہد ہیں
سائنسدانوں کے پاس نئی دریافت کے بارے میں ٹھوس شواہد ہیں
مذکورہ بندروں کو پہلے دیکھنے والے سائنسدانوں میں شامل ٹام بوٹنسکی نے کہا کہ نئی قسم کا پتہ چلانے کا ایک زبردست احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ کے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ آ جاتی ہے اور آپ کہتے ہیں کہ واہ‘۔

ڈاکٹر بوٹنسکی ایک امریکی ٹیم میں شامل تھے۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ان سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر تنزانیہ میں ہی ایک اور ٹیم بھی اس بندر کی تلاش میں تھی۔ دوسری ٹیم کو شکاریوں سے جنگل میں بندروں کی ایک نامعلوم قسم کی اطلاع ملی تھی جسے مقامی لوگ کپونجی کہتے تھے۔

ڈاکٹر بوٹنسکی نے بتایا کہ یہ بندر ہزاروں سال سے وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دریافت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تنزانیہ اور خاص طور پر افریقہ کے دور افتادہ علاقوں کے بارے میں کتنا کچھ جاننے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد