ہوئجنز کو زحل کے چاند پر کیا ملا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب خلائی مشن ہوئجنز، زحل کے چاند ٹائٹان پر اترا تو سب سے پہلے یقیناً یہ ایک برفیلے کنکر سے ٹکرایا تھا۔ اوپن یونیورسٹی کے سائنسدان ٹائٹان سے بھیجی گئی معلومات پر تحقیق کرنے کے لیے کئی تجربات کرتے رہے ہیں۔ ایک سو سے زائد تجربات کے بعد سائسندان اب واضع طور پر بتا سکتے ہیں کہ ہوئجنز ٹائٹان پر اترتے ہوئے سب سے پہلے کس قسم کے اجزاء سے ٹکرایا۔ برطانیہ کی نیشنل آسٹرانومی میٹنگ کے دوران مارٹن ٹاؤنر اور جان زارنکی نے اوپن یونیورسٹی کی تحقیق کے بارے میں بتایا۔ یہ میٹنگ یونیورسٹی آف برمنگھم میں ہوئی۔ کسینی ہوئجنز امریکی خلائی ایجنسی ناسا، یورپی خلائی ایجنسی عیسا اور اطالوی خلائی ایجنسی کا مشترکہ خلائی منصوبہ ہے۔ اس مشن پر تین عشاریہ تین ارب ڈالر لاگت آئی ہے اور یہ چار سال تک اس سیارے کے گرد موجود گیسوں اور متعدد چاندوں کا مطالعہ کرے گا۔ ہوئجنز چودہ جنوری کو ٹائٹان پر اترا۔ زحل نظام شمسی کا واحد سیارہ ہے جس کے گرد حلقے یا دائرے موجود ہیں۔ ٹائٹان زحل کا سب سے بڑا چاند ہے۔ ہوئجنز کے چاند پر اترنے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی ماہرین نے اس کی سطع کے بارے میں کہا کہ مشن باریک اجزاء کی سطع سے ٹکرایا جس کے نیچے ایک متوازن نرم غلاف بچھا ہوا ہے۔ پروفیسر زارنکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سطع پر غلاف ممکنات میں سے ایک ہے لیکن تصاویر سے لگتا ہے کہ مشن آبی، برفانی کنکروں سے ٹکرایا جن میں سب سے بڑا پندرہ سنٹی میٹر ہے۔‘ ملٹن کینز میں اوپن یونیورسٹی نے ایک تجربہ گاہ بنائی ہے جہاں پر ٹائٹان کی سطع جیسی تہہ پر تجربات کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہوئجنز جس قسم کی سطع پر اترا اس پر ریت اور بجری نہیں ہے بلکہ پانی اور برف کے اجزا ہیں جس میں ہائڈروکاربن برف کی خاصی مقدار شامل ہے۔ اس سطع پر درجہ حرارت ایک سو اسی سنٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ یہ اس تصویر کی عکس کشی کرتا ہے جو ٹائٹان کے بارے میں ابھرتی ہے جہاں پر شاید میتھین کی بارش کی وجہ سے دریاؤں اور نالوں کے بہنے کے بعد باریک مٹی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پروفیسر زارنکی نے کہا کہ ’جب ٹھوس میں سے مائع گزرتا ہے تو وہ اس کی سطع کو خراب کرتا ہے۔ لیکن اگر سطع برفیلی ہو تو نشیب میں برف کی ریت جمع ہوتی ہے۔ خلائی مشن اسی طرح کی سطع پر اترا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||