فزکس: 1905 سے 2005 تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے چانسلر گیرہاڈ شراؤڈر عالمی سال برائے فزکس کا افتتاح کرنے والے ہیں۔ یہ سال سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کے سائنسی نظریوں کے سوسال مکمل ہونے پر منایا جا رہا ہے۔ یونیسکو جیسے عالمی تعلیمی تنظیموں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ البرٹ آئن سٹائن کی سائنسی کامیابیاں نوجوان نسل کے لیے ایک مشعل راہ ثابت ہوں گی۔ آئن سٹائن نے 1905 میں ایٹم کے وجود کو ثابت کیا جس نے اگے چل کر کوانٹم تھیوری کی شکل اختیار کی جو فزکس کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔ آئن سٹائن نے نظریہ اضافت کے علاوہ خلا اور وقت کے بارے میں دریافتیں کیں جس کے مطابق خلا اور وقت ایسی ساخت کی تشکیل کرتے ہیں جو کسی جسم کی موجودگی سے خمیدہ ہو سکتی ہے۔ آئن سٹائن کی دریافت تباہی پھیلانے والے ہتھیار ایٹم بم بنانے میں کارگر ثابت ہوئی لیکن اس کے علاوہ تھیوری کے کئی مثبت پہلو بھی نکل کر سامنے آئے۔ سوسال پہلے یعنی، 1905 کے شروع میں آئن سٹائن کی صلاحیتوں کا پتہ صرف اس کے چند قریبی ساتھیوں کو تھا لیکن اسی سال کے اختتام تک وہ دنیا ایک بہترین سائنسدان کے طور پر جانے جا چکے تھے۔ آئن سٹائن سو سال گزرنے کے باوجود سائنسدانوں میں سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||