خلائی چٹان زمین کے قریب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کی رات ایک خلائی چٹان زمین سے بیالیس ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے بغیر کسی اثر کے گزر گئی۔ یہ چٹان زمین سے اتنے کم فاصلے پر دیکھی جانے والا پہلا فلکی جرم تھا۔ ناسا کے سائنسدانو کے مطابق ایف ایچ دو ہزار چار نامی یہ خلائی چٹان تیس کلومیٹر چوڑی تھی اور یہ منگل کو پہلی بار دیکھی گئی۔ جمعرات کی رات کو جی ایم ٹی کے مطابق رات دس بج کر آٹھ منٹ پر یہ خلائی چٹان زمین سے بیالیس ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزری۔ سائنسدانوں کے مطابق اس چٹان کا زمین سے تصادم کا کوئی خطرہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی چیزیں زمین کے قریب سے گزرتی ہوں گی لیکن ان کا پتہ نہیں چلتا۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی طرف بڑھنے کی صورت میں یہ اِس کے مدار میں داخل ہوتے ہی نذرِ آتش ہو جائے گی۔ خلائی چٹان کو یورپ، ایشیا اورجنوبی نصف کرہ سے دوربین کے ذریعے دیکھا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||