BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 December, 2004, 08:22 GMT 13:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موبائل سے ڈی این اے متاثر
موبائل فون
موبائل فون کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال سے انسانی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا
موبائل فون سے نکلنے والی ریڈیائی لہروں کی وجہ سے انسانی جسم کے خلیوں اور ڈی این اے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس نئی سائنسی تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ ان لہروں سے انسانی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔ یہ ریفلیکس تحقیق یورپی یونین کی مد د سے کرائی گئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موبائل فون کے انسانی صحت پر اثرات کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کے نیشنل ریڈیولوجیکل پروٹیکشن بورڈ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس تحقیق سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ادارے کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حیاتیاتی تبدیلیوں سے کوئی مرض لاحق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق سے یہ بھی ثابت نہیں ریڈیائی لہروں سے خلیوں پر ہونے والے اثر سے نقصان مستقل ہوتا ہے۔

دنیا میں اس وقت ڈیڑھ ارب لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔

موبائل فون کے استعمال سے ہونے والے اثرات کے حوالے سے ایک اور بحث بھی جاری ہے جو نہ صرف موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے لگائے گئے انٹینوں اور ان سے نکلنے والی لہروں کے خطرات بلکہ ہینڈسیٹوں کے استعمال سے متعلق ہے۔

سن دو ہزار میں ایک برطانوی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ موبائل فون کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔

موبائل فون بنانے والی کمپنیوں کا اصرار ہے کہ مقناطیسی لہروں کے مضر اثرات کےبارے میں ابھی تک کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔

اس تحقیق کے دوران جرمنی کے تحقیقی ادارے ویرم نے انسانی اور جانوروں کے خلیوں پر ریڈیائی لہروں کے اثرات کا جائزہ لیا۔ تجبوں سے دریافت ہوا کہ مقناطیسی لہروں سے لای این اے کو نقصان پہنچتا ہے جسے خلیے درست نہیں کر سکتے۔

ریفلیکس تحقیق کے سربراہ فرانز ایڈل کوفر کا کہنا ہے کہ احتیاط کے طور پر لوگوں کو چاہیے کہ وہ جہاں ممکن ہو موبائل فون کی جگہ عام ٹیلی فون استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کے صحیح طور پر اثرات جاننے کے لیے ابھی چند سال اور درکار ہونگے۔

برطانیہ کے نیشنل ریڈیولوجیکل پروٹیکشن بورڈ کے اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ ایک دلچسپ تحقیق ہے لیکن اس سے لوگوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد