BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 August, 2004, 15:56 GMT 20:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیویارک:’اونچی دکان پھیکا پکوان‘
نیویارک
مستقبل کی ایک جھلک
نیویارک شہر میں موبائل فون سروس بہتر کرنے کے لیے اس ماہ حکومت اور چھ کمپنیوں کے مابین ایک معاہدہ طے پانے والا ہے۔

شہر کے پانچ اضلاع میں موبائل فون کی کوریج کو بہتر کرنے کے لیے یہ کمپنیاں اٹھارہ ہزار نئے اینٹینے لگائیں گے اور اس کے عوض ہر سال مقامی حکومت کو پچیس ملین ڈالر ادا کریں گے۔

نیویارک میں ہر وہ شخص جو موبائل فون استعمال کرتا ہے جانتا ہے کہ یہ کتنا اہم قدم ہوگا۔ شہر میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں پر موبائل فون کا سگنل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یونین سکوئر پارک میں ایک نوجوان نے بتایا ’میں اپنے گھر میں سیل فون استعمال نہیں کر سکتا اس لیے مجھے فون کے لیے انٹرنیٹ کنکشن استعمال کرنا پڑتا ہے‘۔

اس معاہدے کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے شہر کے ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے کمشنر انچارج جینو مینچینی سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اینٹینے کے ڈیزائن کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں وائرلیس کوریج جنوری تک شروع ہو جائے گی۔

نیو یارک میں اسی طرح کا ایک منصوبہ انیس سو چھیانوے میں شروع کیا گیا تھا لیکن اس وقت اس میں ایک ہی کمپنی شامل تھی جو چند ہزار اینٹینے لگانے کے بعد دیوالیہ ہو گئی تھی۔

شہر میں سب لوگ اس منصوبے کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ مگر کوئنز میں ایک مقامی شخص جان کیمپوس کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو انٹینے نصب کرتے وقت زیادہ ذمہ دارانہ رویہ دکھانا ہوگا۔ گلی میں چھتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’جہاں میں رہتا ہوں وہاں ایک میل کے علاقے میں پہلے سے تین سو سے زائد انٹینے موجود ہیں۔ بیس سال بعد اگر ان کا انسانوں پر معمولی سا بھی منفی اثر ہوتا ہے تو پھر کیا ہوگا‘۔

ایک مقامی سیاست دان پیٹر ویلون ان خدشات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ’ان کے دعوے شائد سچ ہیں کہ ان انٹینوں سے نکلنے والی ریڈیائی لہریں مائیکروویو سے نکلنے والی لہروں سے کم ہوں گی۔ مگر کوئی بھی چوبیس گھنٹے، ہفتے میں سات دن بیڈروم کے باہر مائیکروویو نہیں چلاتا۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس پر تحقیق کریں‘۔

مگر شہر کے کمشنر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماہرین سے ان تمام امور پر بات چیت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان انٹینوں سے لوگوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

شہر کے ایک حصے مین ہیٹن میں اس طرح کا وائرلیس نظام پہلے سے کام کر رہا ہے۔ برائنٹ پارک میں لوگ دور دور سے آ کر دھوپ میں بیٹھ کر اپنے لیپ ٹاپ لاگ آن کرتے ہیں۔ وہاں پر سب لوگوں نے اس منصوبے کو خوش آمدید کہا۔

تاہم بروکلین کی للی مارٹنیز کا کہنا تھا کہ اتنے زیادہ لوگ لاگ آن ہوتے ہیں کہ وہ تنگ آ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کا میرے دماغ پر کیا اثر ہوگا۔ یہ خدمات یقینی طور پر میرے لیے نہیں بلکہ ان کے اپنے لیے ہیں اور وہ ان سے کیا کچھ بنا سکتے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد