ڈاؤن لوڈنگ کے لئے P2P اب قانونی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس وقت جب زیادہ تر ممالک میں موسیقی کی کمپنیاں انٹر نیٹ پر موسیقی کا تبادلہ کرنے والے افراد پر مقدمے کر رہی ہیں ، صارفین میں موسیقی ڈاؤن لوڈ کرنے کی خواہش میں اضافے نے موسیقی اور فلم کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ آن لائن موسیقی کا کاروبار کرنے والے افراد کے ساتھ مل کر غیر قانونی ڈاؤن لوڈز کا کوئی قانونی متبادل پیش کریں۔ اب جب کہ ابھی تک پیئر ٹو پیئر(P2P ) نیٹ ورک کے ذریعے کاپی رائٹ موسیقی کا غیر قانونی تبادلہ مقبولِ عام ہے یہ نئی ویب سائٹیں ان لوگوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو ایک پاؤنڈ یا اس سے بھی کم میں قانونی طور پر موسیقی خریدنے میں دلچسی رکھتے ہیں۔ تیز براڈ بینڈ سروس کی موجودگی سے آن لائن مواد کا تبادلہ کرنے والوں کی نظریں اب فلموں کے آن لائن تبادلے پر ہیں۔ ایک برطانوی رسالے کے مدیر کا کہنا ہے کہ ’فلم سٹوڈیوز آج اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں موسیقی کی صنعت چار برس قبل کھڑی تھی‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلمی صنعت کو چاہیے کہ وہ مان لیں کہ ڈاؤن لوڈنگ ایک حقیقت ہے اور انہیں اس سلسلے میں قانونی خدمات فراہم کرنی چاہییں۔اس سے پہلے کہ پیئر ٹو پیئر(P2P ) نیٹ ورک کے ذریعے فلموں کا تبادلہ ایک چام بات بن جائے اور لوگ مفت فلمیں دیکھنے کے عادی ہو جائیں۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ پیئر ٹو پیئر(P2P ) نیٹ ورک کے ذریعےفلموں کا غیرقانونی تبادلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہالی وڈ سے متعلقہ افراد بھی اب اس بات سے متفق ہوتے نظر آ رہے ہیں کہ فلموں کے قانونی ڈاؤن لوڈ کا کاروبار اب ترقی کرے گا۔ سینما ناؤ اور مووی لنک جیسی ویب سائٹیں ہالی وڈ کی مشہور فلموں کی ریلیز کے قریباً چھ ماہ بعد انہیں چار ڈالر فی ڈاؤن لوڈ کے حساب سے اپنے صارفین کو مہیا کر رہی ہیں جبکہ دو اور امریکی کمپنیاں اگلے برس یورپی ممالک کے صارفین کے لیے امریکی فلمیں فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ چند برس پہلے تک تفریحی صنعت انٹر نیٹ پر موسیقی اور فلموں کے تبادلہ کو چوری سے تعبیر کرتی تھی لیکن اب بی بی سی جیسے اس صنعت کے بڑے نام اس دنیا میں قدم رکھنے کو تیار ہیں۔ آئندہ برس سے بی بی سی کے زیادہ تر پروگرام ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ بی بی سی کے نیو میڈیا کے ڈائریکٹر ایشلے ہائی فیلڈ کا کہنا تھا کہ فائلوں کا آن لائن تبادلہ ٹی وی پروگراموں جیسی بڑی فائلوں کے نشر کرنے پر آنے والی لاگت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ P2P ہمارے خرچ کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔ ہمیں پروگرام ایک بار بھیجنا پڑے گا اور صارفین بعد میں اس کا آپس میں تبادلہ کر لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||