’آئی بی ایم چینی ہو گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرسنل کمپیوٹر کی موجد کمپنی آئی بی ایم نے پرسنل کمپیوٹر سے متعلق اپنا کاروبار ایک چینی کمپنی ’لینووو‘ کو فروخت کر دیا ہے۔ ایک اعشاریہ سات بلین ڈالر کے اس کاروباری سودے کے نتیجے میں خریدار کمپنی دنیا کی تیسری بڑی کمپیوٹر فروخت کنندہ بن جائے گی۔ ’لینووو‘ نامی کمپنی جو پہلے ’لیجنڈ‘ کے نام سے جانی جاتی تھی اپنے کاروبار کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کروانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ آئی بی ایم اب دوسرے نفع بخش کاروبار پر توجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سودے کے نتیجے میں آئی بی ایم کمپنی چھ سو پچاس ملین ڈالر نقد رقم کے علاوہ لینووو کمپنی کے اٹھارہ اعشاریہ نو فیصد حصص کی بھی مالک ہوگی۔ان حصص کی مالیت کا اندازہ چھ سو ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ چینی کمپنی آئی بی ایم کا پانچ سو ملین ڈالر کا قرضہ بھی ادا کرے گی۔ اب آئی بی ایم کے پرسنل کمپیوٹر شعبہ کا ہیڈکوارٹر نیویارک سے بیجنگ منتقل ہو جائے گا۔ اس سودے کے نتیجے میں آئی بی ایم کے قریباً دس ہزار ملازمین کو نئی کمپنی میں منتقل ہونا پڑے گا۔ لینووو اور آئی بی ایم کے اس اشتراک کے نتیجے میں کمپنی کی مصنوعات کی فروخت بارہ بلین ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی امید ہے۔ لینووو کے چئیرمین لیو چانزی کا کہنا تھا کہ ’ یہ سودا چین کا گلوبلائزیشن کی جانب ایک اہم قدم ہے‘۔ منگل کو ہونے والے اس سودے کے اعلان کے نتیجے میں آئی بی ایم پرسنل کمپیوٹر کے اس کاوبار سے ہاتھ کھینچ لے گا جو کہ اس نے 1981 میں شروع کیا تھا۔ آئی بی ایم اب ’چپ میکنگ‘ اور زیادہ طاقت والے’سرورز‘ کی تیاری پر زیادہ توجہ دے گا۔ آئی بی ایم کی تکنیکی صلاحیتوں کا زیادہ تر حصہ اب’لینکس‘ آپریٹنگ سسٹم پر صرف ہو گا۔ ’لینکس‘سسٹم مائیکروسوفٹ کے مشہورِ زمانہ سسٹم ’ونڈوز‘ کا حریف ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||