پچاس لاکھ تمباکو نوشی کی بھینٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی سے پوری دنیا میں صرف سن دو ہزار میں پچاس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ ہارورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے مطابق انمیں سے آدھی اموات تیس سے انہتر برس کی عمر کے تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں واقع ہوئیں۔ اس تحقیق کے مطابق، جو ٹوبیکو کنٹرول نامی ایک جریدے میں شائع ہوئی ہے، وقت سے پہلے ہونے والی یہ اموات ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہی شرح سے ہوئی ہیں۔ لیکن تمباکو نوشی سے ہونے والی یہ اموات خواتین کے مقابلے میں مردوں میں تین گنا زیادہ پائی جاتی ہیں۔یا دوسرے لفظوں میں ترقی مذیر ممالک میں تمباکو نوشی سے ہونے والی ہر دس میں سے آٹھ اموات مردوں میں ہوتی ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ہر چار میں تین اموات مردوں کی ہوتی ہے۔ یہ تحقیقی رپورٹ مرتب کرنے والوں نے حتمی نتائج تک پہنچنے کے لئے مفصل اعداد وشمار اور آبادی کی شرح کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ممالک نے تمباکو نوشی کو روکنے کے لئے ضروری قوانین نہیں بنائے اور حکومتوں نے اقدامات نہیں کئے تو مستقبل میں بہت خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||