عوامی مقامات پر تمباکو نوشی ممنوع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت نے عوامی مقامات پر تمباکو نوشی اور تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر پابندی لگا دی ہے۔ تمباکو نوشی اور تمباکو مصنوعات کی تشہیر پر پابندی کا قانون ہندوستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یا لوک سبھا میں گزشتہ سال منظور کیا گیا تھا اور اس کا اطلاق یکم مئی سے ہونا قرار پایا تھا۔ دلی میں بی بی سی نامہ نگار سنجیو سری واستو کے مطابق ہندوستان میں ایک چوتھائی آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کی عادی ہے جبکہ تقریباً دو ہزار افراد روزانہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس خطرناک صورت حال کے پیش نظر حکومت کو یہ پابندی پہلے ہی عائد کر دینا چاہیے تھی۔ تاہم بعض حلقوں نے اس حکومتی اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق اگرچہ تمباکو نوشی پر پابندی کا حکومتی فیصلہ بہت متاثر کن دکھائی دیتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کافی مشکل ہو گا۔ ’ایک ایسے ملک میں جہاں جیب تراشوں اور ریلوے پلیٹ فارم پر کارروائیاں کرنے والے اچکّوں کو پکڑنے کے لئے بھی پولیس فورس دستیاب نہیں ہے وہاں نمباکو نوشی پر پابندی پر عمل درآمد کرانا آسان نہیں ہو گا۔‘ تاہم، نامہ نگار کے مطابق‘ اس پابندی سے اس بات کی طرف ضرور اشارہ ملتا ہے کہ حکومت طاقت ور تمباکو لابی سے نپٹنے کے لئے سنجیدہ ہے۔ نئے قانون کے مطابق تمباکو مصنوعات کی تشہیر اور چھوٹی عمر کے بچوں کو اس کی فروخت غیر قانونی ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||