| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناروے میں سگریٹ پر پابندی
ناروے دنیا کا وہ پہلا ملک ہوگا جس میں ریستوران، بار اور کیفے میں سگریٹ پینے پر پابندی مکمل اور ملک گیر ہوگی۔ ناروے کے لوگوں کو اس تبدیلی کے لئے تیار کرنے کی غرض سے ایک مہم شروع کر دی گئی ہے۔ ناروے کی سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر گرُو ہارلم برونٹ لینڈ نے جو عالمی ادارۂ صحت کی سربراہ بھی رہی ہیں، برطانیہ کے وزراء سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں تمباکو نوشی کے قوانین میں بہادری کا مظاہرہ کریں۔ ناروے میں عوامی مقامات پر سگریٹ پینا آئندہ برس سے ممنوع ہو جائے گا۔ آئرلینڈ اور نیدر لینڈ بھی ناروے کے نقشِ قدم پر چلنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ لیکن برطانیہ میں وزراء نے ایسی پابندی عائد کرنے پر یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ یہ لوگوں کی آزادی پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ ناروے کی سابق وزیرِ اعظم نے ٹونی بلیئر کی حکومت کو خبردار کیا کہ جب تک وہ ’سیاسی بے آرامی‘ برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے تب تک برطانیہ میں سگریٹ نوشی کی شرح کم نہیں ہو سکتی۔ ’اگر ہم نے اس طرح کے قدم نہ اٹھائے ہوتے، جن کی ابتدا میں بہت مخالفت کی گئی تھی، تو ہم آج جہاں ہیں یہاں نہ ہوتے۔‘ تیس سال سے ناروے میں تمباکو نوشی کے اشتہارات پر پابندی ہے لیکن اس کا کوئی زیادہ اثر نہیں ہوا۔ ملک میں ہرتین میں سے ایک شخص سگریٹ پیتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||