| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تمباکو نوشی: اڑتالیس لاکھ ہلاک
جریدہ لینسٹ نے سن دو ہزار میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار شائع کیے ہیں جن کے مطابق دنیا بھر میں اڑتالیس لاکھ افراد ایسے امراض میں مبتلا ہوکر لقمۂ اجل بنے جن کا ایک سبب تمباکو نوشی ہے۔ جریدے کے مطابق پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں تمباکو پینے والے افراد کی تعداد ترقیافتہ ملکوں کے برابر ہوگئی ہے۔ ان اڑتالیس لاکھ افراد میں سے ایک تہائی سے زیادہ تعداد مردوں کی ہے۔ تمباکو کے استعمال سے مرنے والوں کی یہ تعداد دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہے۔ نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقیافتہ ملکوں میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ترقی پذیر دنیا میں پہلے سے زیادہ لوگ تمباکو کے نشہ میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل تمباکو نوشی کو ترقیافتہ دنیا کا مسئلہ تصور کیا جاتا تھا۔ ماہرین طب کا خیال ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو ترقی پذیر ملکوں میں تمباکو نوشی کے باعث مرنے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ ان ملکوں میں غربت اور وبائی امراض نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔ ایسے میں پھیپھڑوں کے سرطان جیسے مرض سے نمٹنا شبعۂ صحت کے لئے بہت بڑا بوجھ ثابت ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |