پہلی نظر میں دل کا جانا عجب نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کسی پری وش پر پہلی نگاہ پڑتے ہی اس کی محبت میں گرفتار ہو جانے کا تصور محض پرانی نسل کے افراد پر ہی صادق نہیں آتا۔ جرنل آف سوشل اینڈ پرسنل ریلیشنشپس نامی جریدے میں شائع کیے گئے ایک مطالعےمیں کہا گیا ہے کہ لوگ اپنی پہلی ملاقات کے چند ہی منٹوں میں یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ کس طرح کا رشتہ استوار کرنے کے خواہشمند ہیں۔ امریکہ کی اوہایو یونیورسٹی کے محققین نے ایک ہی جنس کے افراد کی دوستیوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ایک سو چونسٹھ طلبا کو جوڑوں میں تقسیم کیا اور اس موقف کو ڈیٹنگ کے لیے بھی قابلِ اطلاق قرار دیا۔ جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے معاون مصنف پروفیسر ارتیمیو رامیریز نے کہا ہے کہ حالیہ مطالعہ سے بات سامنے آئی ہے کہ چونکہ لوگ وقت ضائع کرنے کے حق میں نہیں اس لیے سپیڈ ڈیٹنگ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پروفیسر ارتیمیو رامیریز نے منیسوٹا یونیورسٹی کے مائیکل سونا فرینک کے ساتھ مل کر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مطالعہ سے حاصل ہونے والی معلومات ماضی کے تصورات سے متصادم ہیں کیونکہ ماضی میں محققین کا یہ کہنا تھا کہ لوگ اپنی ملاقات کے ابتدائی چند روز میں رشتوں کی نوعیت کا فیصلہ کرتے تھے۔ لیکن اب نئی معلومات اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ یہ سب چند منٹوں ہی میں طے پا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||