BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 September, 2004, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پہلی نظر میں دل کا جانا عجب نہیں
سائنسدانوں کے خیال میں محبت پہلی نگاہ میں بھی ہو سکتی ہے
سائنسدانوں کے خیال میں محبت پہلی نگاہ میں بھی ہو سکتی ہے
سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کسی پری وش پر پہلی نگاہ پڑتے ہی اس کی محبت میں گرفتار ہو جانے کا تصور محض پرانی نسل کے افراد پر ہی صادق نہیں آتا۔

جرنل آف سوشل اینڈ پرسنل ریلیشنشپس نامی جریدے میں شائع کیے گئے ایک مطالعےمیں کہا گیا ہے کہ لوگ اپنی پہلی ملاقات کے چند ہی منٹوں میں یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ کس طرح کا رشتہ استوار کرنے کے خواہشمند ہیں۔

امریکہ کی اوہایو یونیورسٹی کے محققین نے ایک ہی جنس کے افراد کی دوستیوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ایک سو چونسٹھ طلبا کو جوڑوں میں تقسیم کیا اور اس موقف کو ڈیٹنگ کے لیے بھی قابلِ اطلاق قرار دیا۔

جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے معاون مصنف پروفیسر ارتیمیو رامیریز نے کہا ہے کہ حالیہ مطالعہ سے بات سامنے آئی ہے کہ چونکہ لوگ وقت ضائع کرنے کے حق میں نہیں اس لیے سپیڈ ڈیٹنگ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

پروفیسر ارتیمیو رامیریز نے منیسوٹا یونیورسٹی کے مائیکل سونا فرینک کے ساتھ مل کر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مطالعہ سے حاصل ہونے والی معلومات ماضی کے تصورات سے متصادم ہیں کیونکہ ماضی میں محققین کا یہ کہنا تھا کہ لوگ اپنی ملاقات کے ابتدائی چند روز میں رشتوں کی نوعیت کا فیصلہ کرتے تھے۔ لیکن اب نئی معلومات اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ یہ سب چند منٹوں ہی میں طے پا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد