’محبت اندھی ہوتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائسندانوں کا کہنا ہے کہ محبت یا عشق انسانی جسم اور دماغ کو بری طرح سے متاثر کرتا ہے اور اس جذبے کے عجیب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اطالوی محققین نے بارہ ایسے جوڑوں کا مشاہدہ کیا جو گزشتہ چھ مہینوں میں محبت میں مبتلا ہوئے تھے۔ سائنسدانوں کو ان مردوں اور خواتین کے ٹیسٹ سے پتا چلا کہ محبت میں مبتلا ہونے والے مردوں میں ٹیسٹوزٹیرون نامی کیمائی مادے کی کمی ہو جاتی ہے جب کہ خواتین میں ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہو جاتاہے۔ ایک خاتون محقق کا کہنا تھا کہ محبت میں مردوں کا رویہ عورتوں اور عورتوں کا رویہ مردوں کی طرح ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہےکہ قدرت اس مرحلے پر عورتوں اور مردوں کے فرق کم سے کم کر دینا چاہتی ہے۔ محبت کے جذبے پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ محبت بلاشبہ اندھی ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کالج آف لندن میں ہونے والی اس تحقیق سے ثابت ہواہے کہ محبت کے دوران دماغ کے مخصوص حصے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق دماغ میں وہ اعصاب جو کہ عام طور پر غیر لوگوں سے سماجی تعلقات استوار کرنے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں محبت کے جذبے سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے عشق میں مبتلا افراد ایک دوسرے کے عیب نہیں دیکھ سکتے۔ ان دنوں تحقیقوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عشق سے عاشق اور معوشق میں جسمانی تبدیلیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح کی ایک اور تحقیق میں کہا گیا تھا کہ عشق کے دوران انسانی دماغ میں زبردست کمیائی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||