پیس میکر، بدن کی حرارت سےچلیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دل کے امراض میں مبتلا افراد ایک روز جسمانی حرارت کی مدد سے کام کرنے والے پیس میکر استعمال کر سکیں گے۔ نیو یارک میں بائیوفین ٹیکنالوجیز کے سائنسدان ایک ایسی ’بائیو تھرمل بیٹری‘ تیار کرنے میں مصروف ہیں جو بدن کی حرارت کو بجلی میں تبدیل کر دے گی۔ سائنسی جریدے نیو سائنٹسٹ کے مطابق یہ نئی بیٹری پیس میکر اور دیگر طبی آلات کو بجلی فراہم کرنے کا کام کرے گی۔ اس پیش رفت کی کامیابی کی صورت میں مختلف امراض کے باعث پیس میکر جیسے دیگر طبی آلات استعمال کرنے والے مریض سرجری کے ذریعے بیٹری تبدیل کرائے بغیر ہی زیادہ عرصے تک یہ طبی آلات استعمال کر سکیں گے۔ تاحال پیس میکر استعمال کرنے والے بیشتر افراد کو چند برس بعد سرجری کے ذریعے ہی پیس میکر کی بیٹری تبدیل کرانی پڑتی ہے۔ نئی بیٹری کی تیاری میں مصروف سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تیس برس تک کار آمد ہو گی۔ نینو ٹیکنالوجی میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے سبب ہی طبی آلات کے لیے اس طرح کے آلات کی تیاری ممکن ہو سکی ہے۔ یہ نئی بیٹری چھوٹے چھوٹے نیورو ٹرانسمیٹرز میں بھی نصب کی جا سکے گی جو پارکنسیز ڈیزیز میں مبتلا افراد کے دماغ میں نصب کیے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||