موٹے لوگوں کے مقابلے میں دبلے کتنے؟

پایا گيا ہے کہ مردوں میں تین گنا جبکہ خواتین میں دو گنا سے بھی زیادہ موٹاپے میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنپایا گيا ہے کہ مردوں میں تین گنا جبکہ خواتین میں دو گنا سے بھی زیادہ موٹاپے میں اضافہ ہوا ہے

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اب دنیا میں کم وزن والے افراد سے زیادہ موٹے لوگ پائے جاتے ہیں اور اس میں بھی مردوں کے موٹاپے میں تین گنا جبکہ خواتین کے موٹاپے میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

یہ نئی تحقیق لندن کے امپیریئل کالج کے سائنسدانوں نے کی ہے جس کے نتائج سائنس کے جریدے لینسیٹ میں شائع کیےگئے ہیں۔

اس تحقیق میں سنہ 1975 سے 2014 کے درمیان تقریباً 20 ملین مرد و خواتین کے جسم کے ماس انڈیکس (بی ایم آئی) کا موازنہ کیا گیا۔

اس میں پایا گيا کہ مردوں میں تین گنا جبکہ خواتین میں دو گنا سے بھی زیادہ موٹاپے میں اضافہ ہوا ہے۔

اس پر مطالعے کے لیے 186 ممالک کے بالغ مرد و خواتین کے ڈیٹا کو ایک ساتھ جمع کیا گيا جس سے معلوم ہوا کہ سنہ 1975 میں دنیا بھر میں موٹے لوگوں کی تعداد 105 ملین تھی جو 2014 میں بڑھ کر 641 ملین ہوگئی۔

سنہ 2014 میں موٹاپے کے شکار مردوں کی تعداد 266 ملین جبکہ خواتین کی تعداد 375 ملین ہوگئی
،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں موٹاپے کے شکار مردوں کی تعداد 266 ملین جبکہ خواتین کی تعداد 375 ملین ہوگئی

اسی مدت میں کم وزن کے لوگوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا اور 330 ملین بڑھ کر یہ تعداد 462 ملین ہوگئی۔

سنہ 1975 میں عالمی سطح پر مردوں کے موٹاپے کی شرح 3.2 فیصد تھی جو 2014 میں 10.8 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ خواتین کی 6.4 فیصد سے بڑھ کر 14.8 فیصد ہوگئی۔

اس حساب سے سنہ 2014 میں موٹاپے کے شکار مردوں کی تعداد 266 ملین جبکہ خواتین کی تعداد 375 ملین ہوگئی۔

طبّی نکتہ نظر سے موٹاپے کی تعریف بی ایم آئی کی پیمائش سے ہوتی ہے جس میں جسمانی قد و قامت اور وزن میں موازنہ کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایک مربع میٹر کی لمبائی 30 کلو گرام کے حساب سے ہوتی ہے۔

اس تحقیقی ٹیم میں شامل پرفیسر ماجد عزت کا کہنا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ موٹاپا ایک وبائی صورت اختیار کرتا جارہا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات شروع کرے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ چالیس برس پہلے کم وزن کے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی اور اب اس کے برعکس موٹے لوگ زیادہ ہیں۔

اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ چالیس برس پہلے کم وزن کے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی اور اب اس کے برعکس موٹے لوگ زیادہ ہیں
،تصویر کا کیپشناس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ چالیس برس پہلے کم وزن کے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی اور اب اس کے برعکس موٹے لوگ زیادہ ہیں

ان کا کہنا تھا ’اگرچہ اس سے اس بات کی بھی توثیق ہوتی ہے کہ گذشتہ چند عشروں میں کم وزن کے لوگوں کی تعداد میں پہلے کے مقابلے میں کمی آئی ہے تاہم عالمی سطح پر موٹاپا تو بحران کی شکل اختیار کر چکاہے۔‘

انھوں نے کہا ’ہمیں امید ہے کہ ان معلومات سے اس بات کی ضرورت پیدا ہوگي کہ اس حوالے سے ذمہ داری ایک فرد سے ہٹ کر حکومت پر عائد ہو جو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایسی پالیسیاں وضع کرے اور انہیں نافذ بھی کرے گي۔‘

اس ٹیم نے کم وزن کے لوگوں کی تعداد کا بھی جائزہ لیا ہے جس کے مطابق اس مقررہ معیاد میں کم وزن مردوں کی شرح 14 فیصد سے کم ہوکر نو فیصد ہوگئی جبکہ خواتین میں 15 فیصد سے کم ہوکر یہ دس فیصد رہ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSPL

اس تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ موٹے لوگوں کی تعداد چین میں پائی جاتی ہے جہاں تقریباً چار کروڑ 32 لاکھ مرد موٹے ہیں جبکہ چار کروڑ 46 لاکھ خواتین کا وزن زیادہ ہے۔

اس فہرست میں امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جہاں چار کروڑ 17 لاکھ مرد اور چار کروڑ 61 لاکھ خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔

2014 کے جائزے کے مطابق برطانیہ میں 68 لاکھ مرد اور 77 لاکھ خواتین ضرورت سے زیادہ موٹی تھیں۔