ایک ارب ڈالر چوری کرنے کی کوشش پکڑی گئی

،تصویر کا ذریعہThinkstock
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آن لائن ہیکروں نے بنگلہ دیش کے مرکزی بنک سے ایک ارب ڈالر چوری کرنے کی کوشش کی ہے۔
روئٹرز نے بنک انتظامیہ کے حوالے سے بتایا کہ آن لائن چوروں کے ایک گروہ نے چوری شدہ معلومات یوں استعمال کیں کہ ایسا لگے کہ رقوم کی ادائیگی قانونی طور پر کی جا رہی ہے۔
اگر رقوم کی تمام ادائیگیاں کر دی جاتیں تو ہیکروں کا یہ گروہ تقریباً ایک ارب ڈالر چوری کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔
تاہم یہ ادائیگیاں اس وقت روک دی گئیں جب رقوم کی ادائیگیوں کے لیے دیگر بنکوں میں آنے والے درخواستوں میں مشکوک حد تک اضافہ ہو گیا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ آن لائن چور تقریباً آٹھ کروڑ ڈالر چوری کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو تاریخ میں ہونے والی سب سے بڑی بنک ڈکیتیوں میں سے ایک ہے۔
ایک ماہ قبل ہونے والے اس حملے سے پہلے اس گروہ نے بنگلہ دیش کے مرکزی بنک کے اندرونی طریقۂ کار کا جائزہ لیا تاکہ جب وہ ادائیگیوں کی درخواست بھیجیں تو ایسا لگے کہ وہ درخواستیں افسران کی جانب سے آئی ہیں۔

تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ادائیگیوں اور املا کی غلطی کی وجہ سے بنک میں کام کرنے والوں کو چوری کا شبہ ہو گیا۔
نام کے ہجوں میں غلطی کی وجہ سے ڈوئچے بنک نے سنٹرل بنک سے اس کی تصدیق چاہی جس کے بعد اس ادائیگی کو روک دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی دوران نیویارک کے فیڈرل ریزرو بنک نے سلسلہ وار رقوم کی ادائیگیوں کی مشتبہ درخواستیں موصول ہونے کے بعد بنگلہ دیش کے مرکزی بنک کو خبردار کیا تھا۔
اگر رقوم کی یہ تمام ادائیگیاں کر دی جاتیں تو آن لائن چور تقریباً 95 کروڑ ڈالر چوری کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔
روئٹرز کے مطابق چوری کیے جانے والے آٹھ کروڑ ڈالر سری لنکا اور فلپائن میں بنک اکاؤنٹوں میں جمع کروائے گئے ہیں اور مرکزی بنک نے یہ تمام رقوم واپس وصول کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔







